اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے ملک میں برقی گاڑیوں (Electric Vehicles) کے فروغ کے لیے ایک بڑے ریلیف پیکج اور قومی پالیسی کی منظوری دے دی ہے۔ اس منصوبے کا سب سے پرکشش پہلو سرکاری ملازمین کے لیے ہے، جس کے تحت گریڈ 1 سے 16 تک کے ملازمین کو آسان ترین اقساط پر الیکٹرک موٹرسائیکلیں فراہم کی جائیں گی، تاکہ وہ پٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے بوجھ سے آزاد ہو سکیں۔
وزیراعظم کی زیرِ صدارت ہونے والے جائزہ اجلاس میں بتایا گیا کہ حکومت آئندہ پانچ سالوں میں ملک کی 30 فیصد گاڑیوں کو بجلی پر منتقل کرنے کا ہدف رکھتی ہے۔ اس اقدام سے نہ صرف ماحولیاتی آلودگی میں کمی آئے گی بلکہ پاکستان کے تیل کے درآمدی بل میں سالانہ تقریباً 4.5 ارب ڈالر کی خطیر بچت ہوگی۔
گریڈ 16 تک کے تمام سرکاری ملازمین اس اسکیم سے فائدہ اٹھا سکیں گے، جس کا مقصد کم آمدنی والے طبقے کو سفری سہولیات فراہم کرنا ہے۔
وزیراعظم نے ہدایت کی ہے کہ نیشنل ای وی پالیسی کے تحت دی جانے والی تمام مراعات اور سبسڈیز کو مکمل طور پر شفاف بنایا جائے تاکہ حقداروں تک ریلیف پہنچے۔
ملک بھر میں الیکٹرک چارجنگ اسٹیشنز قائم کرنے کے لیے اب تک 123 درخواستیں موصول ہو چکی ہیں، جن پر تیزی سے کام جاری ہے۔
اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے حکام نے بتایا کہ پاکستان اب تیزی سے ای وی مینوفیکچرنگ کی طرف بڑھ رہا ہے:
الیکٹرک بائیکس اور رکشے: اب تک 72 اداروں کو مینوفیکچرنگ سرٹیفکیٹس جاری کیے جا چکے ہیں۔
الیکٹرک کاریں: 4 بڑی کمپنیوں کو الیکٹرک گاڑیاں بنانے کی اجازت مل چکی ہے جن میں ایک پاکستانی کمپنی بھی شامل ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے زور دیا کہ ای وی کا فروغ صرف وقت کی ضرورت نہیں بلکہ پاکستان کی توانائی کی سلامتی اور معاشی استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے متعلقہ وزارتوں کو ہدایت کی کہ اس منصوبے پر عملدرآمد کی رفتار کو مزید تیز کیا جائے تاکہ عام آدمی کو فوری ریلیف مل سکے۔
اجلاس میں وفاقی وزرا احسن اقبال، محمد اورنگزیب، مصدق ملک اور دیگر اعلیٰ حکام نے بھی شرکت کی اور منصوبے کو حتمی شکل دینے کے لیے اپنی تجاویز پیش کیں۔
سرکاری ملازمین کی چاندی؛گریڈ ا تا 16 کے لئے وزیراعظم کا بڑا اعلان

