پرنسٹن، امریکا: امریکا میں مقیم نامور پاکستانی ماہرِ معیشت عاطف میاں نے کہا ہے کہ پاکستان میں پیٹرول کا 30 روپے فی لیٹر ملنا کوئی دیوانے کا خواب نہیں، بلکہ ایک ایسی حقیقت ہے جسے غلط پالیسیوں نے ناممکن بنا رکھا ہے۔ انہوں نے ایک تفصیلی تجزیے میں ثابت کیا ہے کہ کس طرح پاکستانی عوام اپنی سفری لاگت میں 90 فیصد تک کمی لا سکتے ہیں۔
Petrol at Rs 30/litre in Pakistan sounds crazy. It is not. What is crazy is the policy failure that prevents it.
Petrol is around Rs 300/litre today, excluding government levy, here’s how it can effectively be Rs 30/litre.
People do not consume petrol for its own sake; they use… https://t.co/PN3nsrG1Nh
— Atif Mian (@AtifRMian) April 18, 2026
حساب کتاب: 300 بمقابلہ 30 روپے
عاطف میاں کا کہنا ہے کہ لوگ پیٹرول اس لیے نہیں خریدتے کہ انہیں وہ پینا ہے، بلکہ اس لیے خریدتے ہیں تاکہ وہ سفر کر سکیں۔ انہوں نے ریاضی کے سادہ فارمولے سے سمجھایا:
پیٹرول بائیک: ایک سی ڈی 70 موٹر سائیکل ایک لیٹر پیٹرول (قیمت تقریباً 300 روپے) میں 60 کلومیٹر سفر کرتی ہے۔
الیکٹرک اسکوٹر: ایک جدید الیکٹرک اسکوٹر صرف 2 یونٹ (kWh) بجلی میں یہی 60 کلومیٹر کا فاصلہ طے کر سکتا ہے۔
سولر پاور کا جادو: پاکستان سولر توانائی کے لیے دنیا کے بہترین مقامات میں سے ایک ہے۔ اگر ہم سولر سے بجلی بنائیں تو 2 یونٹ کی قیمت بمشکل 30 روپے بنتی ہے۔ یعنی 300 روپے کے پیٹرول کا کام صرف 30 روپے کی بجلی سے لیا جا سکتا ہے۔
عاطف میاں نے موجودہ نظام کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے "ٹوٹا ہوا اعصابی نظام” قرار دیا۔ ان کے مطابق ہماری بیوروکریسی کو درآمدی ایندھن سے عشق ہے۔ پاکستان نے ڈالر ادھار لے کر مہنگے درآمدی کوئلے اور گیس کے بجلی گھر لگائے، جبکہ ہم سستی سولر توانائی سے محروم رہے۔
فرسودہ آٹو سیکٹر: حکومت نے پرانے طرز کی گاڑیوں کی صنعت کو تحفظ دیا اور الیکٹرک گاڑیوں (EVs) کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کیں۔
ٹیکسوں کی بھرمار: بجلی کی قیمتوں کو اس لیے آسمان پر پہنچا دیا گیا تاکہ آئی پی پیز کے ناکارہ اور "مردہ” بجلی گھروں (Zombie Plants) کے فکسڈ چارجز اور بھاری ٹیکس ادا کیے جا سکیں۔
عاطف میاں کے مطابق اگر پاکستان الیکٹرک وہیکلز اور سولر انفراسٹرکچر پر سرمایہ کاری کرے تو اس کے بے شمار فوائد ہوں گے:
روزگار کے مواقع: بیٹری کی تبدیلی (Battery Swapping) اور مقامی بجلی گھروں سے چھوٹے کاروباروں اور ملازمتوں کا سیلاب آئے گا۔
پیٹرول کی درآمد پر خرچ ہونے والے اربوں ڈالر بچائے جا سکتے ہیں، جس سے روپے کی قدر مستحکم ہوگی۔
فضائی آلودگی کم ہونے سے شہریوں کی اوسط عمر اور پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔
عاطف میاں نے خبردار کیا کہ "نیٹ میٹرنگ” جیسے اقدامات میں رکاوٹیں ڈال کر حکومت صرف ان بجلی گھروں کو زندہ رکھنا چاہتی ہے جو ملکی معیشت پر بوجھ ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ کوئی اس نظام کو ٹھیک کرے گا، کیونکہ عوام 300 بمقابلہ 30 کی اس ظالمانہ پالیسی کی بھاری قیمت چکا رہے ہیں۔

