اسلام آباد: ملک بھر میں شدید گرمی کے آغاز کے ساتھ ہی بجلی کے بحران نے سر اٹھا لیا ہے۔ پاور ڈویژن کی جانب سے غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے دورانیے میں اضافے نے شہریوں کو دوہرے عذاب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ملک میں بجلی کی طلب اور رسد کا فرق 6 ہزار 500 میگاواٹ تک پہنچ گیا ہے، جس کے باعث کئی علاقوں میں دن رات بجلی کی فراہمی معطل ہے۔
اعداد و شمار کا گورکھ دھندا
ذرائع کے مطابق اس وقت صورتحال کچھ یوں ہے:
مجموعی طلب: 22,000 میگاواٹ
مجموعی پیداوار: 15,400 میگاواٹ
پیداواری ذرائع: پن بجلی (1,500 میگاواٹ)، تھرمل (9,250 میگاواٹ)، نیوکلیئر (2,850 میگاواٹ)، ونڈ (1,200 میگاواٹ)، سولر (400 میگاواٹ) اور بیگاس (200 میگاواٹ)۔
بحران کی بنیادی وجوہات
پاور ڈویژن نے اس بدترین صورتحال کی چند بڑی وجوہات بیان کی ہیں:
پن بجلی میں کمی: ڈیموں سے پانی کے اخراج میں کمی کے باعث پن بجلی کی پیداوار میں تقریباً 1,991 میگاواٹ کی بڑی گراوٹ آئی ہے۔
پلانٹس کی بندش: آر ایل این جی (RLNG) پر چلنے والے اہم پلانٹس، بشمول بلوکی پاور پلانٹ (1223 میگاواٹ) کی بندش سے سسٹم پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔
لوڈ مینجمنٹ: ترجمان پاور ڈویژن کے مطابق مہنگے ایندھن کی بچت کے لیے شام 5 سے رات 1 بجے تک ‘لوڈ مینجمنٹ’ کی جا رہی ہے۔
پاور ڈویژن کی وضاحت اور عوام سے اپیل
پاور ڈویژن نے حالیہ لوڈشیڈنگ پر معذرت کرتے ہوئے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ خاص طور پر رات کے اوقات (پیک آورز) میں بجلی کا استعمال کم سے کم کریں۔ حکام کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں ڈیموں سے پانی کے اخراج اور آر ایل این جی کی دستیابی سے صورتحال بہتر ہونے کی توقع ہے، تاہم فی الحال صارفین کو ‘توانائی بچت’ کے اصول اپنانے ہوں گے۔
عوامی ردِعمل: شہریوں کا کہنا ہے کہ ابھی گرمی کا باقاعدہ آغاز بھی نہیں ہوا اور بجلی کا یہ حال ہے، تو جون جولائی میں زندگی گزارنا ناممکن ہو جائے گا۔ پہلے پیٹرول اور گیس مہنگے ہوئے، اب بجلی کا میسر نہ ہونا غریب پر ‘بجلی’ گرانے کے مترادف ہے
گرمی کی پہلی لہر اور بجلی کا ‘بلیک آؤٹ’: ملک بھر میں بدترین لوڈشیڈنگ کا راج، شارٹ فال 6500 میگاواٹ سے متجاوز

