واشنگٹن: امریکا کے محکمہ محنت (Labor Department) کی منگل کو جاری ہونے والی رپورٹ نے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ ایران جنگ کے باعث توانائی کے بڑھتے ہوئے اخراجات نے امریکی تھوک قیمتوں (Wholesale Prices) کو گزشتہ تین سالوں کی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔
پروڈیوسر پرائس انڈیکس (PPI)، جو صارفین تک پہنچنے سے پہلے اشیاء کی قیمتوں کا تعین کرتا ہے، میں غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے:
فروری کے مقابلے میں مارچ میں تھوک قیمتیں 0.5% بڑھ گئیں۔
مارچ 2025 کے مقابلے میں اس سال قیمتوں میں 4% اضافہ ہوا، جو تین سالوں میں سب سے بڑی چھلانگ ہے۔
صرف ایک ماہ میں توانائی کی قیمتوں میں 8.5% کا زبردست اضافہ دیکھا گیا۔
قیمتوں میں اس اچانک اضافے نے امریکی مرکزی بینک (Federal Reserve) کے لیے صورتحال انتہائی پیچیدہ کر دی ہے۔ ایک طرف صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے شرحِ سود کم کرنے کا شدید دباؤ ہے، تو دوسری طرف بینک کے پالیسی ساز بڑھتی ہوئی مہنگائی کو روکنے کے لیے شرحِ سود میں مزید اضافے پر غور کر رہے ہیں۔
کارل وینبرگ، چیف اکانومسٹ کا کہنا ہے کہ "خوراک کی قیمتوں میں معمولی کمی (0.3%) ایک خوش آئند خبر ہے، لیکن یہ سیاسی بحث کا مرکز رہے گی کیونکہ اگلے سال کے وسط مدتی انتخابات (Midterm Elections) قریب ہیں۔” —
انٹرنیشنل انرجی ایجنسی نے منگل کو اپنی رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ کورونا وبا کے بعد پہلی بار عالمی سطح پر تیل کی طلب میں سالانہ کمی واقع ہوگی۔ اس کی بڑی وجوہات درج ذیل ہیں:
جنگ کی وجہ سے اس اہم بحری راستے کی بندش نے سپلائی چین کو مفلوج کر دیا ہے۔
توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں نے تیل کی ترسیل کو بری طرح متاثر کیا ہے۔
ایجنسی کے مطابق، اس سال تیل کی طلب میں اوسطاً 80,000 بیرل یومیہ کمی متوقع ہے، جبکہ جنگ سے پہلے 850,000 بیرل اضافے کی پیش گوئی کی گئی تھی۔
امریکی عوام پہلے ہی پٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے پریشان ہیں، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 3.3% بڑھ چکی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایران میں جنگی حالات جلد قابو میں نہ آئے تو توانائی کی قلت اور مہنگائی کا یہ اثر مڈل ایسٹ اور ایشیا سے نکل کر پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا، جس سے عالمی معیشت ایک گہرے بحران کا شکار ہو سکتی ہے۔
امریکا میں مہنگائی کا نیا طوفان، توانائی کی قیمتوں میں ہوش رُبا اضافہ اور ‘فیڈرل ریزرو’ کی نیندیں حرام!

