واشنگٹن ڈی سی : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اسلام آباد امن مذاکرات آئندہ دو روز میں دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں۔
نیویارک پوسٹ کو انٹرویو میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو کہا ہے کہ پاکستان میں اگلے دو دنوں میں ایران سے مذاکرات دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے انٹرویور سے بات کرتے ہوئے کہا ’آپ کو وہاں رہنا چاہیے، واقعی، کیونکہ اگلے دو دنوں میں کچھ ہو سکتا ہے، اور زیادہ امکان ہے کہ ہم وہاں جائیں گے۔‘
ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کے آرمی چیف، فیلڈ مارشل عاصم منیر، مذاکرات پر ’بہت اچھا کام‘ کر رہے ہیں۔
“You should stay there, really, because something could be happening over the next two days, and we’re more inclined to go there,” President Trump told me of Islamabad. “It’s more likely, you know why? Because the field marshal is doing a great job.” https://t.co/UlLIC7djB8
— Caitlin Doornbos (@CaitlinDoornbos) April 14, 2026
نیو یارک پوسٹ کو دئیے گئے انٹرویو می صدر ٹرمپ نے انٹرویو کے دوران پاکستانی فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی تعریفوں کے پل باندھ دیے۔ ٹرمپ نے کہا:
"ہم اسلام آباد جانے کے لیے زیادہ پرجوش ہیں کیونکہ وہاں کے ‘فیلڈ مارشل’ شاندار کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے بھارت کے ساتھ جنگ ختم کروا کر 30 ملین لوگوں کی جان بچائی، وہ ایک بہترین انسان ہیں اور اسی لیے ہم واپس وہیں جا رہے ہیں۔”
ٹرمپ کا اشارہ گزشتہ سال پاک-بھارت مختصر جنگ کی طرف تھا، جس میں امریکہ کی ثالثی اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں امن معاہدہ طے پایا تھا۔
ٹرمپ نے ایران کے ساتھ کسی بھی قسم کی نرمی کے امکان کو مسترد کر دیا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا امریکہ ایران کو 20 سال کے لیے یورینیم افزودگی روکنے کی پیشکش کر رہا ہے، تو صدر نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا”میں شروع سے کہہ رہا ہوں کہ ان کے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں، مجھے 20 سال والی بات پسند نہیں آئی۔”میں نہیں چاہتا کہ ایران یہ محسوس کرے کہ وہ یہ جنگ یا مذاکرات جیت گئے ہیں۔”
روئٹرز نے چار ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ امریکہ اور ایران کی ٹیمیں اس ہفتے مذاکرات کے لیے اسلام آباد آ سکتی ہیں۔
اس سے قبل ایسوسی ایٹڈ پریس نے بھی ذرائع کے حوالے سے ایسی ہی خبر شائع کی تھی۔
یادرہے دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور 11 اپریل کو اسلام آباد میں ہوا تھا۔

