واشنگٹن:امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ایران کے خلاف ایک انتہائی سخت چارج شیٹ پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی حکومت عالمی قوانین اور ضابطوں پر یقین نہیں رکھتی اور اس کی حالیہ کارروائیوں نے پوری دنیا کو معاشی و سیکورٹی کے لحاظ سے شدید متاثر کیا ہے۔
مارکو روبیو نے نیوزی لینڈ کے وزیر خارجہ ونسٹن پیٹرز کے ہمراہ واشنگٹن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بدقسمتی سے آج پوری دنیا ایران کی جانب سے عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزیوں کا خمیازہ بھگت رہی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ایران آبنائے ہرمز (Straits of Hormuz) میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنا کر ہر اس قانون کی دھجیاں اڑا رہا ہے جسے عالمی برادری تسلیم کرتی ہے۔
SECRETARY RUBIO: The whole world has been impacted unfortunately because Iran is violating every law known by striking commercial vessels in the Straits of Hormuz.
Iran is a regime that doesn’t believe in laws, rules, or anything like that. It’s a state sponsor of terrorism. pic.twitter.com/kn2nnbZ71B
— Department of State (@StateDept) April 7, 2026
امریکی وزیر خارجہ نے ایرانی نظام پر تنقید کرتے ہوئے مزید کہا:
”ایران ایک ایسا مذھبی جنونی نظام (Regime) ہے جو کسی قانون، ضابطے یا عالمی اصول کو نہیں مانتا۔ یہ ایک ایسی ریاست ہے جو سرکاری سطح پر دہشت گردی کی سرپرستی کر رہی ہے۔“
مارکو روبیو کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی قافلوں پر حملے محض ایک ملک کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ عالمی سپلائی چین کے لیے بڑا خطرہ ہے، جس سے توانائی کی قیمتوں اور عالمی تجارت پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق مارکو روبیو کا یہ بیان جنگ سے قبل امریکا کی نئی اور جارحانہ خارجہ پالیسی کا عکاس ہے۔

