بڈاپسٹ :امریکی سینیٹر جے ڈی ونس نے ہنگری کے دارالحکومت بوڈاپیسٹ میں وزیراعظم وکٹر اوربان کے ہمراہ کھڑے ہو کر ایران کے جزیرہ خارگ پر امریکی حملوں کی باقاعدہ تصدیق کر دی ہے۔ پریس کانفرنس کے دوران ایک ڈرامائی منظر اس وقت دیکھنے میں آیا جب ونس نے ٹرمپ کے خصوصی ایلچی برائے ایران مذاکرات، اسٹیو وٹکوف کا ٹیکسٹ میسج چیک کرنے کے لیے اپنا فون نکالا، اور پھر اعلان کیا کہ "جنگ بہت جلد ختم ہو جائے گی”۔
بوڈاپیسٹ: امن کا نیا مرکز؟ جے ڈی ونس نے ٹرمپ اور اوربان کو یوکرین جنگ ختم کرنے کی کوششوں میں سب سے آگے قرار دیا اور بوڈاپیسٹ کو امن سربراہ کانفرنس کے لیے بطور مقام تجویز کیا۔ انہوں نے اوربان کی تعریف کی کہ وہ واشنگٹن کو یوکرین اور روس دونوں کی ضروریات سمجھنے میں مدد کر رہے ہیں۔ چونکہ اوربان واحد نیٹو رہنما ہیں جن کا پوتن سے براہ راست رابطہ ہے، اس لیے بوڈاپیسٹ اس پیچیدہ کھیل کا مرکزی نقطہ بن گیا ہے۔
جے ڈی ونس کے اس بیان نے واضح کر دیا ہے کہ ایران میں جاری کشیدگی کا براہ راست اثر یوکرین میں امن کے قیام پر پڑے گا، کیونکہ یہ روس کی مذاکراتی پوزیشن کو مسلسل کمزور کر رہا ہے۔
ہنگری کے دارالحکومت بڈاپیسٹ میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ امریکا ’بنیادی طور پر‘ ایران میں اپنے مقاصد حاصل کر لیے ہیں۔بڈاپیسٹ میں واشنگٹن پوسٹ نے ان سے پوچھا کہ کیا ان کے پاس کوئی ایسی معلومات موجود ہے، جس سے ایران اور امریکا کے درمیان کسی معاہدے کا امکان نظر آتا ہو؟
اس کے جواب میں امریکی نائب صدر کا کہنا تھا کہ امریکا ’بنیادی طور پر‘ ایران میں اپنے عسکری مقاصد حاصل کر چکا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ جنگ کے اختتام کی نوعیت ایران پر منحصر ہے اور یہ کہ یہ تنازع ’دو طریقوں‘ سے اپنے انجام کو پہنچ سکتا ہے۔
جے ڈی وینس نے کہا کہ ایک یہ کہ ’ایران ایک نارمل ملک بن جائے، وہ دہشگردی کی مالی معاونت ختم کرے، وہ دنیا کے کاروباری نظام کا حصہ بن جائے۔ان کے مطابق دوسرا آپشن یہ ہے کہ ’اگر ایران مذاکرات نہیں کرتا تو اس کی اقتصادی صورتحال مزید خراب ہوتی جائے گی۔ان کا کہنا تھا کہ ایران نے آبنائے ہرمز بند کر کے ’دنیا کو زیادہ سے زیادہ اقتصادی تکلیف پہنچانے‘ کی کوشش کی ہے لیکن امریکا اسے ’زیادہ تکلیف‘ پہنچانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

