پشاور / راولپنڈی:وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے وفاقی اور پنجاب حکومت کے خلاف سخت سیاسی موقف اختیار کرتے ہوئے 9 اپریل کو راولپنڈی کے تاریخی مقام لیاقت باغ میں جلسہ عام منعقد کرنے کا حتمی اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ پرامن احتجاج ان کا آئینی حق ہے اور اس بار وہ کسی بھی رکاوٹ کو خاطر میں نہیں لائیں گے۔
پشاور میں دیگر پارٹی رہنماؤں کے ہمراہ ایک ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ اگر انتظامیہ نے جلسے کے لیے این او سی جاری نہ کیا تو اس کا ردعمل شدید ہوگا۔ ان کا کہنا تھا:
"اگر ہمیں روکا گیا تو ہم وہیں بیٹھ جائیں گے اور پورا ملک جلسہ گاہ بن جائے گا۔ ہماری منزل لیاقت باغ ہے اور ہم وہاں پہنچ کر ہی دم لیں گے۔”
وزیراعلیٰ نے اعلان کیا کہ وہ خود 9 اپریل کو صبح 11 بجے پشاور سے قافلے کی قیادت کرتے ہوئے نکلیں گے۔ راستے میں مختلف اضلاع سے کارکنوں کے بڑے دستے ان کے ہمراہ شامل ہوں گے، جو ایک بڑے احتجاجی مارچ کی شکل اختیار کر جائے گا۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ موسم کی شدت یا راستوں کی بندش انہیں اپنے مقصد سے پیچھے نہیں ہٹا سکتی۔
اس موقع پر پارٹی رہنما جنید اکبر نے میڈیا کو بتایا کہ قانونی تقاضے پورے کرنے کے لیے درخواست جمع کرائی جا چکی ہے، لیکن اب فیصلہ ہو چکا ہے کہ اجازت ملے یا نہ ملے، جلسہ ہر صورت منعقد کیا جائے گا۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ سہیل آفریدی کے اس جارحانہ اعلان کے بعد راولپنڈی اور اسلام آباد کی انتظامیہ شدید دباؤ میں ہے اور 9 اپریل کو دونوں جانب سے سخت مقابلے کی فضا پیدا ہو سکتی ہے، جو ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال پر گہرے اثرات مرتب کرے گی۔
بارش ہو یا طوفان، قافلے نہیں رکیں گے؛ خیبرپختونخوا سے راولپنڈی تک سیاسی طاقت کے مظاہرے کی تیاری

