واشنگٹن : امریکی جریدے ‘فنانشل ٹائمز’ نے ایک ایسی رپورٹ شائع کی ہے جس نے واشنگٹن کے سیاسی اور دفاعی حلقوں میں بھونچال پیدا کر دیا ہے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی سے محض چند ہفتے قبل دفاعی شعبے میں بھاری سرمایہ کاری کے ذریعے بڑے مالی فائدے کی منصوبہ بندی کی تھی۔
بلیک راک اور مورگن اسٹینلے کا گٹھ جوڑ؟
رپورٹ میں اس معاملے سے واقف تین اہم ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ فروری کے مہینے میں، مورگن اسٹینلے سے وابستہ ایک بروکر نے (جو پیٹ ہیگستھ کی نمائندگی کر رہا تھا) عالمی سرمایہ کاری کمپنی ‘بلیک راک’ سے رابطہ کیا۔
اس رابطے کا مقصد بلیک راک کے ‘ڈیفنس انڈسٹریز ایکٹو ای ٹی ایف’ (IDEF) میں کئی ملین ڈالرز کی سرمایہ کاری کے بارے میں معلومات حاصل کرنا تھا۔
یہ ای ٹی ایف (ETF) خاص طور پر ان کمپنیوں پر مرکوز ہے جو عالمی جغرافیائی سیاسی تناؤ اور جنگی حالات میں حکومتی دفاعی اخراجات بڑھنے سے براہِ راست فائدہ اٹھاتی ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس انکوائری کو بلیک راک کے اندرونی سیکیورٹی نظام نے مشکوک قرار دیتے ہوئے فوری طور پر ‘فلیگ’ (Flag) کر دیا تھا۔
ان الزامات کے منظرِ عام پر آتے ہی پینٹاگون کے چیف ترجمان اور سیکریٹری دفاع کے سینئر مشیر شان پارنیل نے ٹویٹر (X) پر ان دعوؤں کی سختی سے تردید کی ہے۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا”یہ الزام مکمل طور پر جھوٹا اور من گھڑت ہے۔ نہ تو سیکریٹری ہیگستھ اور نہ ہی ان کے کسی نمائندے نے ایسی کسی بھی سرمایہ کاری کے حوالے سے بلیک راک سے کبھی کوئی رابطہ کیا۔”
This allegation is entirely false and fabricated. Neither Secretary Hegseth nor any of his representatives approached BlackRock about any such investment. This is yet another baseless, dishonest smear designed to mislead the public.
We demand an immediate retraction.… https://t.co/Su8hGlBOhL
— Sean Parnell (@SeanParnellASW) March 30, 2026
فنانشل ٹائمز کی رپورٹ اس وقت سامنے آئی ہے جب امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں عروج پر ہیں۔ اگر یہ الزامات سچ ثابت ہوتے ہیں تو یہ ‘مفادات کے ٹکراؤ’ (Conflict of Interest) کا ایک انتہائی سنگین معاملہ بن سکتا ہے، جس میں ایک اعلیٰ عہدیدار اپنی پالیسی سازی اور جنگی فیصلوں کو ذاتی تجوری بھرنے کے لیے استعمال کرنے کا مرتکب ٹھہرے گا۔
فی الوقت بلیک راک اور مورگن اسٹینلے نے اس معاملے پر باضابطہ تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے، تاہم امریکی میڈیا میں اس پر بحث چھڑ چکی ہے۔

