میامی :واشنگٹن پوسٹ رپورٹ کر رہا ہے کہ پینٹاگون ایران میں کئی ہفتوں کی زمینی کارروائیوں کی تیاری کر رہا ہے۔
اخبار نے امریکی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ یہ واضح نہیں ہے کہ صدر ٹرمپ زمینی فوج کی تعیناتی کے منصوبے کی منظوری دیں گے یا نہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے تصدیق کی ہے کہ ایک امریکی جنگی بحری بیڑا یو ایس ایس ٹریپولی 3500 سیلرز اور میرینز کو لے کر مشرقِ وسطیٰ پہنچ گیا ہے۔سینٹکام کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ اس بحری بیڑے کے ہمراہ ایک ٹرانسپورٹ اور سڑائیک فائتر ہوائی جہاز بھی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ موجودہ منصوبے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اس طرح کی زمینی کارروائیاں مکمل حملہ نہیں ہوں گی، بلکہ سپیشل آپریشنز فورسز اور روایتی پیادہ فورس کے ذریعے چھاپہ مار کارروائیاں کی جائیں گی۔
رپورٹس کے مطابق خلیج کی طرف جانے والے امریکی بحری جہازوں پر چار ہزار سے زیادہ امریکی میرینز موجود ہیں جبکہ 82 ویں ایئر بورن کے پیرا ٹروپرز سٹینڈ بائی پر ہیں۔
واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ مطابق امریکی حکام کا کہنا ہے کہ پینٹاگون کئی ہفتوں پر محیط ممکنہ زمینی کارروائیوں کی منصوبہ بندی کر رہا ہے، تاہم یہ مکمل حملہ (انویژن) نہیں ہوگا بلکہ اس میں اسپیشل فورسز اور روایتی پیادہ فوج کے مشترکہ چھاپے شامل ہو سکتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق یہ کارروائیاں ایرانی ساحلی علاقوں اور اہم عسکری اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے کی جا سکتی ہیں، خاص طور پر آبنائے ہرمز کے قریب موجود تنصیبات، جہاں سے تجارتی اور فوجی جہازوں کو خطرات لاحق ہیں۔
اخبار نے لکھا کہ ان کارروائیوں کے دوران امریکی فوج کو ایرانی ڈرونز، میزائل حملوں، زمینی فائرنگ اور دیسی ساختہ دھماکہ خیز مواد جیسے خطرات کا سامنا ہو سکتا ہے۔ ابھی یہ واضح نہیں کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ان منصوبوں کی مکمل، جزوی یا کوئی بھی منظوری دیں گے یا نہیں۔

