واشنگٹن:امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ امریکا ایران میں رہنے کی کوشش نہیں کر رہا اور انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ مشن اپنے اختتام کے قریب ہے۔ جے ڈی وینس نے ویڈیو بیانات میں واضح کیا کہ ان کا ملک اس وقت ایران میں اس لیے کام کر رہا ہے تاکہ طویل عرصے تک آپریشن کے نتائج کے تسلسل کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ واشنگٹن نے تہران میں اپنے اہداف حاصل کر لیے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکی مشن جلد ختم ہو جائے گا اور یہ بھی بتایا کہ ان کارروائیوں کی تکمیل کے فوراً بعد توانائی کی قیمتوں کے معمول پر آنے کی توقع ہے۔ امریکی خصوصی مندوب سٹیو وِٹکوف نے جمعہ کے روز اس اعتماد کا اظہار کیا تھا کہ ایران رواں ہفتے واشنگٹن کے ساتھ بات چیت کرے گا۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ان دعوؤں کو دہرایا ہے کہ ایران ایک معاہدے تک پہنچنا چاہتا ہے۔
یاد رہے وِٹکوف نے میامی میں ایک اقتصادی فورم کے دوران ایران کے ساتھ مذاکرات کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا ہے کہ ہمیں یقین ہے کہ اس ہفتے ملاقاتیں ہوں گی اور ہمیں یقیناً اس کی امید ہے۔ امریکی مندوب نے یہ بھی کہا کہ امریکا جنگ کے خاتمے کے لیے اپنی تجویز پر تہران کے جواب کا انتظار کر رہا ہے۔
دریں اثنا باخبر ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی منصوبے یا تجویز کی شرائط میں ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخائر کو ختم کرنا، افزودگی کے عمل کو روکنا، بیلسٹک میزائل پروگرام کو محدود کرنا اور خطے میں مسلح گروہوں کی فنڈنگ روکنا شامل ہے۔ دوسری جانب ایرانی فریق نے 5 شرائط کی بات کی ہے۔ ایک اعلیٰ سطح کے سیاسی اور سکیورٹی اہلکار نے کہا کہ ان کا ملک جارحیت اور ٹارگٹ کلنگ کے خاتمے، ایسے ٹھوس حالات کی فراہمی جو دوبارہ جنگ نہ ہونے کی ضمانت دیں، جنگی نقصانات کے معاوضے کی ادائیگی کی یقین دہانی اور اس کے طریقہ کار کی واضح وضاحت، تمام محاذوں پر جنگ کے خاتمے اور آبنائے ہرمز پر ایران کی خودمختاری کو ایک قدرتی اور قانونی حق کے طور پر تسلیم کرنا چاہتا ہے۔
"ایران میں ہمارے اہداف پورے ہو گئے، اب واپسی کا وقت ہے!” جے ڈی وینس کا بڑا اعلان

