نیویارک :سینیگال سے تعلق اور ٹک ٹاک پر سب سے زیادہ فالورزرکھنے والے کھابے لامے نے ایک امریکی کمپنی سے تقریباً 90 کروڑ ڈالر مالیت کا ایک تاریخی تجارتی معاہدہ کیا ہے۔
اس معاہدے کو عالمی سطح پر کسی ڈیجیٹل کریئیٹر کی جانب سے کی گئی اب تک کی سب سے بڑی اور اہم مالیاتی پیش رفتوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔
امریکی اسٹاک ایکسچینج میں درج کمپنی رچ اسپارکل ہولڈنگز نے ایک معاہدے کے تحت شہرت یافتہ ٹک ٹاکر کھابے لامے کی کمپنی اسٹیپ ڈسٹنکٹو لمیٹڈ کے ایک حصے کو خرید لیا ہے۔
رچ اسپارکل نے اس خریداری کا اعلان ایک وسیع تر اسٹریٹجک شراکت داری کے ساتھ کیا ہے، جس کا مقصد کھابے لامے کی تجارتی سرگرمیوں کو عالمی سطح پر وسعت دینا ہے۔
معاہدے کے مطابق، رچ اسپارکل اپنے آپریٹنگ شراکت داروں کے ذریعے ابتدائی طور پر 36 ماہ کے لیے کھابے لامے کی عالمی کمرشل سرگرمیوں پر خصوصی حقوق حاصل کرے گی۔
ان حقوق میں برانڈ پارٹنرشپس، توثیقی معاہدے، لائسنسنگ اور ای۔کامرس منصوبے شامل ہیں، جو روایتی انفلوئنسر مارکیٹنگ سے ہٹ کر ایک پلیٹ فارم پر مبنی کاروباری ماڈل کی طرف واضح اشارہ کرتے ہیں۔
رچ اسپارکل کا اندازہ ہے کہ ٹریفک، آرڈر کی تکمیل، آپریشنز اور ملکیتی ٹیکنالوجی پر مشتمل مربوط نظام، مکمل نفاذ کے بعد سالانہ 4 ارب ڈالر سے زائد کی فروخت پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
اس معاہدے کے تحت کھابے لامے رچ اسپارکل ہولڈنگز کے کنٹرولنگ شیئر ہولڈر بھی بن جائیں گے، جس سے وہ محض ایک تخلیقی شراکت دار نہیں بلکہ اپنے برانڈ کے گرد قائم کمرشل انفرا اسٹرکچر میں براہِ راست حصص رکھنے والے فریق کے طور پر سامنے آئیں گے۔
کمرشل حکمتِ عملی کا آغاز ابتدائی طور پر امریکا، مشرقِ وسطیٰ اور جنوب مشرقی ایشیا میں کیا جائے گا، جبکہ اس پر عمل درآمد آئندہ 3 برسوں میں مرحلہ وار ہوگا۔
رچ اسپارکل اس منصوبے میں چین کی کمپنی انہوئی شیاوہے یانگ نیٹ ورک ٹیکنالوجی کے ساتھ کام کرے گی، جو بڑے پیمانے پر کریئیٹر لیڈ ای کامرس کا تجربہ رکھتی ہے۔
کھابے لامے نے بغیر کسی مکالمے کے، سادہ اور مزاحیہ ویڈیوز کے ذریعے عالمی شہرت حاصل کی، جن میں وہ پیچیدہ لائف ہیکس کو نہایت سادگی سے بے نقاب کرتے ہیں۔
ان کا خاموش انداز زبان کی رکاوٹوں سے بالاتر رہا، جس کے باعث وہ بہت کم وقت میں ایک متنوع اور عالمی ناظرین تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔
اس وقت کھابے لامے کے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اندازاً 36 کروڑ فالوورز ہیں، جو انہیں دنیا کے سب سے بااثر ڈیجیٹل شخصیات میں شامل کرتا ہے اور ایک حقیقی معنوں میں عالمی سطح کے کریئیٹر کی مثال بناتا ہے۔

