اسلام آباد:وفاقی حکومت کا کہنا ہے کہ حکومت یا فوج کی جانب سے خیبر پختونخوا کے علاقے وادی تیراہ کو خالی کروانے کا کوئی حکم جاری نہیں کیا گیا۔
وفاقی وزارتِ اطلاعات کے ایکس اکاؤنٹ سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ حکومت نے ان گمراہ کن خبروں کا نوٹس لے لیا ہے جس میں دعوی کیا گیا ہے کہ وادی تیراہ کو فوج کے احکامات پر خالی کروایا جا رہا ہے۔
وزارتِ اطلاعات نے ان دعوؤں کو ’بے بنیاد‘ اور ’بدنیتی پر مبنی‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان خبروں کا ’مقصد عوام میں خوف و ہراس پھیلانا، سکیورٹی اداروں کے خلاف غلط معلومات دینا اور ذاتی و سیاسی مفادات کا حصول ہے۔‘
بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ’قانون نافذ کرنے والے ادارے معمول کے مطابق صرف دہشت گرد عناصر کے خلاف انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کارروائیاں کرتے ہیں‘ اور اس دوران اس بات کا خیال رکھا جاتا ہے کہ شہریوں کی زندگی متاثر نہ ہو۔
’ان کارروائیوں کے لیے کسی قسم کی آبادی کی منتقلی یا ہجرت کی نہ ضرورت ہے اور نہ ہی ایسا کچھ کیا جا رہا ہے۔‘
بیان میں مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ خیبر پختو نخوا کی حکومت کے ریلیف، بحالی اور آبادکاری کے محکمے نے 26 دسمبر 2025 کو ایک نوٹیفکیشن جاری کیا جس کے تحت اطلاعات کے مطابق چار ارب روپے جاری کیے گئے۔
وزارتِ اطلاعات کا کہنا ہے کہ یہ رقم تیراہ (باغ) کے بعض علاقوں سے ممکنہ، عارضی اور رضا کارانہ طور پر آبادی کی نقل و حرکت کے پیش نظر جاری کی گئی تاکہ پیشگی تیاری اور امدادی اقدامات کیے جا سکیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ نوٹیفکیشن میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ ’ڈپٹی کمشنر خیبر کے مطابق یہ مجوزہ رضا کارانہ نقل مکانی مقامی آبادی کی رائے اور خواہشات کی عکاسی کرتی ہے، جو ضلعی سطح پر منعقد ہونے والے نمائندہ جرگے کے ذریعے سامنے آئی۔‘
یاد رہے کہ رواں ماہ آٹھ جنوری کو سرکاری خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے خبر دی تھی کہ تیراہ کے 24 رکنی جرگے سے ہونے والے مذاکرات کی کامیابی کے بعد فوجی آپریشن کے پیشِ نظر 10 جنوری سے تیراہ سے مقامی آبادی کا انخلا شروع ہو گا جو 25 جنوری تک جاری رہے گا۔
وزارتِ اطلاعات کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت یا اس کے کسی عہدیدار کی جانب سے میڈیا کو دیا گیا کوئی بھی ایسا بیان، جس میں اس نقل مکانی کو مسلح افواج سے جوڑا جائے، سراسر غلط، من گھڑت اور بدنیتی پر مبنی ہے۔
’ایسے بیانات سیاسی فائدہ حاصل کرنے کے لیے دیے جا رہے ہیں اور بد قسمتی سے سکیورٹی اداروں کو بدنام کرنے کی کوشش ہیں، جو انتہائی افسوسناک ہے۔‘
خبریں گمراہ کن،حکومت یا فوج کی جانب سے وادی تیراہ خالی کرانے کا کوئی حکم جاری نہیں کیا گیا، وزارت اطلاعات

