سیئول:جنوبی کوریا کی عدالت نے سابق صدر یون سُک یول کو ملک میں مارشل لا لگانے کے الزام میں پانچ برس کی قید سنا دی ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ یون سُک یول کے خلاف درج آٹھ فوجداری مقدمات میں سے سامنے آنے والا پہلا فیصلہ ہے جو ان پر 2024 کے اواخر میں ایک حکم نامہ جاری کرنے اور دیگر الزامات سے متعلق ہیں۔
ان کے خلاف سب سے بڑا الزام یہ ہے کہ انہوں نے مارشل لا کے نفاذ کے لیے بغاوت کو تحریک دی، جس کی ممکنہ سزا سزائے موت ہے۔سیول کی سینٹرل ڈسٹرکٹ کورٹ نے جمعے کو فیصلہ سنایا اور اس میں دیگر الزامات بھی شامل ہیں جیسا کہ انہوں نے حراست میں لیے جانے سے متعلق حکام کے احکامات ماننے سے انکار کیا۔
یون سُک یول کی جانب سے ابھی تک فیصلے کے حوالے سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا مگر جب ایک آزاد کونسل نے اس سے قبل ان کو 10 سال کی سزا دیے جانے کا مطالبہ کیا تو ان کی قانونی ٹیم نے ان پر الزام لگایا کہ یہ سیاسی طور پر عائد کیے گئے الزامات ہیں اور ان میں ’ضرورت سے زیادہ‘ سزا کے مطالبے کی قانونی بنیادیں موجود نہیں ہیں۔
دسمبر 2024 میں سابق صدر کے حکم نامے کے بعد ملک میں چند گھنٹے کے لیے مارشل لا نافذ رہا تھا، جس پر عوامی سطح پر بہت احتجاج سامنے آیا تھا اور انہیں معزول کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ اس کے بعد یون سُک یول کے مواخذے کی تحریک لائی گئی جو بھاری اکثریت سے کامیاب ہوئی تھی اور ان کو عہدے سے ہٹا کر گرفتار کر لیا گیا تھا۔
جنوبی کوریا، مارشل لالگانے پر سزائے موت کی بجائے سابق صدر کو صرف 5 سال قید

