واشنگٹن: ایران میں حکومت مخالف مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔ اسی بیچ امریکی حکومت نے الرٹ جاری کیا ہے۔ محکمہ خارجہ نے پیر 12 جنوری 2026 کو الرٹ جاری کرتے ہوئے تمام امریکیوں کو فوری طور پر ایران چھوڑنے کی ہدایت دی۔
یہ ایڈوائزری ایران میں دو ہفتوں سے جاری احتجاج اور اسرائیلی و امریکی حملوں کے خدشات کے باعث جاری کی گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق اب تک حکومت مخالف مظاہروں میں 500 سے زائد افراد ہلاک اور ہزاروں لوگ زخمی ہوئے ہیں۔
امریکی انتظامیہ کی ایڈوائزری میں خبردار کیا گیا ہے کہ ملک گیر مظاہرے "بڑھ رہے ہیں” اور "پرتشدد شکل اختیار کر سکتے ہیں”، جو گرفتاریوں، زخمیوں اور روزمرہ کی زندگی میں سنگین رکاوٹوں کا باعث بن سکتے ہیں۔ الرٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ سڑکیں بند ہیں اور انٹرنیٹ بلاک ہے۔ ایرانی حکومت نے "موبائل فونز، لینڈ لائنز اور قومی انٹرنیٹ نیٹ ورک تک رسائی کو بھی محدود کر دیا ہے۔”
ایڈوائزری میں سفری رکاوٹوں پر بھی دھیان دیا گیا ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ کئی ایئر لائنز نے ایران جانے اور آنے والی پروازیں کم یا منسوخ کر دی ہیں۔ ایئر لائنز نے ایران جانے اور والی پروازوں کو کم یا منسوخ کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے، اور کئی کمپنیوں نے جمعہ 16 جنوری تک سروس معطل کر دی ہیں۔ امریکی شہریوں سے فوری طور پر احتیاط برتنے کی تاکید کرتے ہوئے امریکہ کے ورچول سفارت خانے نے انہیں زمین کے راستے سے آرمینیا اور ترکی منتقل ہونے کا مشورہ دیا۔ ایڈوائزری میں کہا گیا کہ ابھی ایران چھوڑ دیں اور ایران چھوڑنے کا ایسا منصوبے بنائیں جو امریکی حکومت کی امداد پر منحصر نہ ہو۔
امریکہ نے مزید کہا کہ ‘جو لوگ باہر نہیں جا پا رہے ہیں، وہ محفوظ جگہ تلاش کر لیں اور ضروری اشیاء کا ذخیرہ کر لیں۔ اس میں مزید کہا گیا ہے کہ اگر آپ باہر نہیں جا سکتے تو اپنے گھر یا کسی اور محفوظ عمارت میں کوئی محفوظ جگہ ڈھونڈ لیں۔ خوراک، پانی، ادویات اور دیگر ضروری اشیاء کا ذخیرہ کر لیں۔ اس میں امریکی شہریوں کو مشورہ دیا گیا کہ مظاہروں سے دور رہیں، لو پروفائل رہیں اور اپنے اردگرد کا دھیان رکھیں۔ حکومت نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ اپ ڈیٹس کے لیے مقامی میڈیا پر نظر رکھیں اور اپنے منصوبوں لچکدار رکھیں۔
امریکی انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ ایرانی حکومت دوہری شہریت کو تسلیم نہیں کرتی۔ اس لیے بلا تاخیر وہاں سے نکلیں۔ حکومت ایسے افراد متعدد پابندیاں عائد کرے گی جس سے مشکلات پیدا ہوں گی۔ امریکی پاسپورٹ دکھانا یا امریکہ سے کوئی تعلق ہونا گرفتاری کے لیے کافی ہے۔ غور طلب ہے کہ ایران میں کوئی امریکی سفارت خانہ نہیں ہے، اس لیے اگر کوئی امریکی شہری خود کو مشکل میں پاتا ہے تو حکومتی مدد ناممکن ہو جائے گی۔ عاضی حل کے لیے امریکہ ایران کے لیے ورچول سفارت خانہ چلا رہا ہے۔
امریکا کا ایران کے ساتھ کاروبار کرنیوالے ممالک پر25 فیصد ٹیرف نافذ کرنیکا اعلان
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو ان ممالک کو نشانہ بنایا جو ایران کے ساتھ کاروبار جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس نے ایسے مملاک پر امریکہ کے ساتھ تمام کاروباری لین دین پر 25 فیصد ٹیرف لگا دیا ہے۔
ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں ٹرمپ نے کہا کہ یہ فیصلہ فوری طور پر نافذ العمل ہوگا اور یہ حکم حتمی اور فیصلہ کن ہے۔ "ایران کے ساتھ کاروبار کرنے والے کسی بھی ملک کو امریکہ کے ساتھ کیے گئے تمام کاروبار پر 25 فیصد ٹیرف ادا کرنا ہوگا۔ یہ حکم حتمی ہے۔ اس معاملے پر آپ کی توجہ کا شکریہ!”

