امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایرانی قیادت نے ان سے رابطہ کیا ہے اور وہ مذاکرات کرنا چاہتے ہیں۔
تاہم صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ امریکہ کو ملاقات سے پہلے بھی کارروائی کرنا پڑ سکتی ہے۔
صدر ٹرمپ نے اس بات کی مزید وضاحت نہیں کی کہ امریکہ کن اقدامات پر غور کر رہا ہے، لیکن اتوار کو انھوں نے کہا کہ ’ہم کچھ نہایت سخت آپشنز پر غور کر رہے ہیں۔
بی بی سی کے امریکی نیوز پارٹنر سی بی ایس کو ایک سرکاری اہلکار نے بتایا کہ صدر ٹرمپ کو ایران پر ممکنہ فوجی حملوں کے آپشنز کے بارے میں بریفنگ دی جا چکی ہے۔
وال سٹریٹ جرنل سے بات کرنے والے حکام کے مطابق دیگر ممکنہ اقدامات میں آن لائن حکومت مخالف ذرائع کو تقویت دینا، ایران کی فوج کے خلاف سائبر ہتھیاروں کا استعمال، یا مزید پابندیاں عائد کرنا بھی شامل ہو سکتا ہے۔
ادھر ایران کی پارلیمنٹ کے سپیکر نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ نے حملہ کیا تو اسرائیل کے ساتھ ساتھ خطے میں امریکی فوجی اور بحری مراکز بھی جائز اہداف بن جائیں گے۔
ایرانی قیادت کا ٹرمپ کو فون، مذاکرات پر آمادگی ظاہر کردی، اپوزیشن سے رابطے میں ہیں ، ڈونلڈ ٹرمپ

