اسلام آباد:تاجکستان کی سٹیٹ کمیٹی فار نیشنل سکیورٹی نے تصدیق کی ہے کہ افغانستان سے تاجکستان میں سرحد پار دراندازی کے ایک اور واقعے میں تین افغان مسلح افراد سکیورٹی آپریشن کے دوران ہلاک ہو گئے۔تاجک حکام کے مطابق ہلاک ہونے والے افراد غیر قانونی طور پر افغانستان سے تاجک حدود میں داخل ہوئے ، سرحدی سکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی کے نتیجے میں ممکنہ دہشت گردانہ کارروائی کو ناکام بنا دیا گیا۔حکام کے مطابق ہلاک ہونے والے افغان دہشت گردوں کے قبضے سے بھاری مقدار میں اسلحہ اور دھماکہ خیز مواد برآمد ہوا جس میں ایم-16 رائفل، کلاشنکوف ،اسالٹ رائفل، تین پستول، دس دستی بم، نائٹ وژن ڈیوائس، دھماکہ خیز موادو دیگر عسکری ساز و سامان شامل ہے۔
تاجکستان کی سکیورٹی اتھارٹی کے مطابق گزشتہ ایک ماہ کے دوران افغانستان سے تاجکستان میں مسلح تشدد، دہشت گردانہ سرگرمی یا غیر قانونی سرحدی دراندازی کا یہ تیسرا واقعہ ہے جو خطے میں بڑھتے سکیورٹی خطرات کی واضح علامت ہے۔سکیورٹی ذرائع کے مطابق افغانستان میں مختلف مسلح دہشت گرد گروہوں کی موجودگی پورے خطے کے امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ بنتی جا رہی ہے۔ اس سے قبل بھی پاکستان، ایران اور دیگر ہمسایہ ممالک میں افغانستان سے دہشت گرد عناصر کی دراندازی کے متعدد واقعات منظر عام پر آ چکے ہیں۔ پاکستان پہلے ہی عالمی فورمز پر افغان طالبان رجیم کی جانب سے دہشت گرد گروہوں کو پناہ اور سہولت فراہم کرنے کے حوالے سے ٹھوس شواہد پیش کر چکا ہے۔
تازہ واقعہ اس امر کی مزید تصدیق کرتا ہے کہ افغان طالبان کے زیرِ انتظام افغانستان علاقائی امن و سلامتی کے لیے ایک مستقل اور سنگین چیلنج بن چکا ہے۔سکیورٹی ماہرین کے مطابق افغان سرحد سے اسلحے اور تشدد کی مسلسل ترسیل نے طالبان رجیم کے امن کے دعوؤں کو بے نقاب کر دیا جبکہ خطے کے ممالک کو بڑھتے دہشت گردانہ خطرات کا سامنا ہے۔
افغانستان سے تاجکستان میں سرحد پار حملہ، طالبان رجیم دہشتگردی کی سرپرستی میں سرگرم

