Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    Facebook Twitter Instagram
    Benaqab News | Welcome to Benaqab News NetworkBenaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    • ہوم
    • اہم ترین
    • پاکستان
    • شہر شہر کی خبریں
    • دنیا کی خبریں
    • صحت
    • انٹرٹینمنٹ
    • کھیل
    • بزنس
    • ٹیکنالوجی

      چینی اے آئی کمپنی ڈیپ سیک نے سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ کے لیے نیا "سپر ایجنٹ” متعارف کرا دیا

      ریڈ جائنٹ ستاروں کی ہولناک تباہی سے بچ جانے والے تین انوکھے سیارے دریافت

      روبوٹ کتوں کو سیر کروائیں، ہزاروں کمائیں: مستقبل کی انوکھی نوکری

      اے یو اسمال فائنانس اور وجئے سیلس پر بڑا سائبر حملہ، کروڑوں صارفین کا ڈیٹا خطرے میں

      پاکستان کا ایک اور اعزاز "NUST” کے 45 محققین دنیا کے ممتاز ترین سائنس دانوں کی فہرست میں شامل

    • بلاگ
    • ویڈیوز

        بھٹ شاہ رورل ہیلتھ سینٹر کی  غفلت سے خاتون اور نومولود جاں بحق

      جشنِ آزادی کے سلسلے میں ضلع بھر میں مختلف تقریبات کا سلسلہ جاری

      ہیومین ویلفیئر آرگنائزیشن پاکستان کے زیر اہتمام ریلی نکالی گئی

      عالمگیر ویلفیئر ٹرسٹ اور جامع مدرسہ منصورہ ہالا کے مشترکہ تعاون سے مفت میڈیکل کیمپ کا انعقاد

      جشنِ آزادی کے سلسلے میں مغل ویلفیئر اتحاد ہالا کی جانب سے ریلی نکالی گئی

    Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network

    ترکیئےمیں طیارہ حادثہ، لیبیا کے آرمی چیف جنرل الحداد سینئر فوجی حکام کے ہمراہ جاں بحق

    Facebook Twitter LinkedIn WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    انقرہ+طرابلس:ترکی میں فضائی حادثے کے دوران لیبیا کے فوجی سربراہ جنرل محمد علی احمد الحداد دیگر اعلی حکام کے ہمراہ جاں بحق ہو گئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق وہ ایک فالکن 50 طیارے میں چار دیگر افراد کے ساتھ سوار تھے جو ترکی کے دارالحکومت انقرہ سے روانہ ہوا تھا۔

    لیبیا کے صدارتی محل کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ جہازنے منگل 23 ستمبر کو انقرہ سے مقامی وقت کے مطابق رات 8 بج کر 17 منٹ پر اڑان بھری۔
    ڈائریکٹر کیمونیکشن برہانتین دیوران نے کہا کہ جہاز نے 8 بج کر 33 منٹ پر کنٹرول ٹاور سے دوبارہ رابطہ کیا اور تکینکی وجوہات کی بنا پر ہنگامی لینڈنگ کی اجازت مانگی۔
    ایسے میں جب ایئرپورٹ پر ہنگامی لینڈنگ کی تیاری کی جا رہی تھی کہ جہاز  تیزی سے نیچے آنے لگا اور 8 بج کر 36 منٹ پر یعنی 19 منٹ کے بعد جہاز ریڈار سے غائب ہو گیا اور اس کے بعد جہاز سے رابطہ منقطع ہو گیا۔
    حادثے کا شکار ہونے والا جہاز ترکی کے دارالحکومت انقرہ سے لیبیا کے درالحکومت طرابلس جا رہا تھا ۔جہاز میں فوج کے سربراہ کے علاوہ فوج کے دیگر آٹھ سینیئر حکام موجود تھے۔لیبیا کے چیف آف سٹاف محمد علی احمد الحداد کے ہمراہ لیبیا کی لینڈ فورسز کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل فوتوری گریبل، ملٹری مینوفیکچرنگ کارپوریشن کے کمانڈربریگیڈیئر جنرل محمود الکتاوی، لیبیا کے چیف آف جنرل سٹاف کے مشیر محمد العسوی دیاب اور جنرل سٹاف کے فوٹوگرافر محمد عمر احمد محکب جہاز میں موجود تھے

    ا۔لیبیا کی فوج کے سربراہ فالکن 50 نامی جٹ طیارے میں سوار تھے۔ یہ جہاز 1988 کا بنا ہوا ہے۔ ترک حکام کا کہنا ہے کہ جہاز کا ملبہ ایئر پورٹ سے 105 کلو میٹر دور کے ایک دیہات سے ملا ہے جو تقریبا دو کلومیٹر کے علاقے میں پھیلا ہوا ہے۔
    جہاز لیبیا کی حکومت کا نہیں تھا بلکہ اسے آفریقی مالٹا میں میں موجود ایک کمپنی سے لیز پر لیا گیا تھا۔
    اہلکاروں کا کہنا ہے کہ جہاز کا بلیک باکس ابھی تک نہیں ملا ہے۔

    حادثے کی تحقیقات کے لیے لیبیا نے اپنا ایک وفد انقرہ بھجوا رہا ہے۔ لیبیا کے وزیر برائے اطلاعات محمد عمار الافیی نے کہا کہ ’اب تک رپورٹس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ تکنیکی مسائل کی وجہ سے جہاز حادثے کا شکار ہوا۔
    امریکی ٹیلیویژن نیٹ ورک این بی سی نیوز اور غیرملکی نیوز ایجنسی کے مطابق حادثے میں ہلاک ہونے والے عملے کے ارکان لیبیا کے نہیں تھے۔ تاہم ان تینوں افراد کی شناخت اور قومیت سے متعلق تاحال تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
    یاد رہے کہ لیبیا میں 24 اور 25 دسمبر کو یوم آزادی کی تقریبات کا انعقاد ہونا تھا۔ تاہم اس حادثے کے بعد وزیر اعظم دیبے نے سوگ کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ تین دن تک تمام ریاستی اداروں پر پرچم سرنگوں رہیں گے جبکہ تمام سرکاری اور جشن کی تقریبات معطل کرنے کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔
    جنرل محمد علی احمدالحداد کون تھے؟
    جنرل محمد علی احمد الحداد 2015 میں طرابلس کے فوجی ضلع میں ایک سینیئر کمانڈر بنے۔ ان کی پوسٹنگ مغربی لیبیا کے انتہائی نازک فوجی علاقوں میں تھی۔
    محمد علی احمد الحداد طرابلس میں مزاحمت کرنے والے صفِ اول کے کمانڈروں میں سے ایک تھے۔ علی احمد الحداد نے ملک کے مشرق میں فیلڈ مارشل خلیفہ حفتر کی قیادت میں لیبیا کی قومی فوج کے خلاف مزاحمت کو منظم کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
    علی احمد الحداد کو ستمبر 2020 میں لیبیا کی حکومتِ قومی معاہدے کے ذریعے لیبیا کی مسلح افواج کا چیف آف سٹاف
    مقرر کیا گیا۔جنرل محمد علی احمد الحداد لیبیا کے چیف آف جنرل سٹاف کے عہدے پر پانچ سال سے زائد عرصے تک فائز رہے اور انھوں نے ترکی کے ساتھ اپنے ملک کے تعلقات کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔

    Related Posts

    ’یہ سیاسی تباہی ہے‘: ناراض ریپبلکن رہنماؤں نے شکست کا ذمہ دار صدر ٹرمپ کو ٹھہرا دیا

    کرشی بھون کی قدیمی مسجد کو ہٹانے کی تجویز: جماعت اسلامی ہند کی شدید مخالفت، حکومت سے فیصلے پر نظرثانی کا مطالبہ

    صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت کم ترین سطح پر

    مقبول خبریں

    ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو سکینڈل: جے آئی ٹی رپورٹ منظرِ عام پر، عبدالحفیظ شیخ اور کامران لاشاری مرکزی ماسٹر مائنڈ قرار

    چوہدری سالک حسین کے پاس ثبوت نہیں تو معافی مانگیں یا وزارت چھوڑ دیں: سینئیروزیر حکومتِ پنجاب

    ’یہ سیاسی تباہی ہے‘: ناراض ریپبلکن رہنماؤں نے شکست کا ذمہ دار صدر ٹرمپ کو ٹھہرا دیا

    ڈسٹرکٹ بار   کے سالانہ انتخابات 12 دسمبر   کو ہونگے

    بنگلادیشی فاسٹ بولر مستفیض الرحمان بگ بیش لیگ میں میلبورن رینیگیڈز کا حصہ بن گئے

    بلاگ

    ’’عمران خان کی نئی ڈائریکشن’’ میاں حبیب کاکالم

    محنت کبھی رائیگاں نہیں جاتی؛ ایک مزدور کے بیٹے نے ڈاکٹر بن کر تاریخ رقم کر دی

    پی کے کلانی: غربت سے جدوجہد تک، ہنر، خودداری اور عزم کی ایک ناقابلِ فراموش داستان

    مذہبی اصولوں کے دعوے سے سیاسی مفاہمت تک

    مسٹر پتلو کی شادی یا عوام کی زندگیوں سے کھیلنے کا تماشا؟

    Facebook Twitter Instagram Pinterest
    • Disclaimer
    • Terms & Conditions
    • Contact Us
    • privacy policy
    Copyright © 2024 All Rights Reserved Benaqab Tv Network

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.