انقرہ+طرابلس:ترکی میں فضائی حادثے کے دوران لیبیا کے فوجی سربراہ جنرل محمد علی احمد الحداد دیگر اعلی حکام کے ہمراہ جاں بحق ہو گئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق وہ ایک فالکن 50 طیارے میں چار دیگر افراد کے ساتھ سوار تھے جو ترکی کے دارالحکومت انقرہ سے روانہ ہوا تھا۔
لیبیا کے صدارتی محل کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ جہازنے منگل 23 ستمبر کو انقرہ سے مقامی وقت کے مطابق رات 8 بج کر 17 منٹ پر اڑان بھری۔
ڈائریکٹر کیمونیکشن برہانتین دیوران نے کہا کہ جہاز نے 8 بج کر 33 منٹ پر کنٹرول ٹاور سے دوبارہ رابطہ کیا اور تکینکی وجوہات کی بنا پر ہنگامی لینڈنگ کی اجازت مانگی۔
ایسے میں جب ایئرپورٹ پر ہنگامی لینڈنگ کی تیاری کی جا رہی تھی کہ جہاز تیزی سے نیچے آنے لگا اور 8 بج کر 36 منٹ پر یعنی 19 منٹ کے بعد جہاز ریڈار سے غائب ہو گیا اور اس کے بعد جہاز سے رابطہ منقطع ہو گیا۔
حادثے کا شکار ہونے والا جہاز ترکی کے دارالحکومت انقرہ سے لیبیا کے درالحکومت طرابلس جا رہا تھا ۔جہاز میں فوج کے سربراہ کے علاوہ فوج کے دیگر آٹھ سینیئر حکام موجود تھے۔لیبیا کے چیف آف سٹاف محمد علی احمد الحداد کے ہمراہ لیبیا کی لینڈ فورسز کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل فوتوری گریبل، ملٹری مینوفیکچرنگ کارپوریشن کے کمانڈربریگیڈیئر جنرل محمود الکتاوی، لیبیا کے چیف آف جنرل سٹاف کے مشیر محمد العسوی دیاب اور جنرل سٹاف کے فوٹوگرافر محمد عمر احمد محکب جہاز میں موجود تھے

جہاز لیبیا کی حکومت کا نہیں تھا بلکہ اسے آفریقی مالٹا میں میں موجود ایک کمپنی سے لیز پر لیا گیا تھا۔
اہلکاروں کا کہنا ہے کہ جہاز کا بلیک باکس ابھی تک نہیں ملا ہے۔
حادثے کی تحقیقات کے لیے لیبیا نے اپنا ایک وفد انقرہ بھجوا رہا ہے۔ لیبیا کے وزیر برائے اطلاعات محمد عمار الافیی نے کہا کہ ’اب تک رپورٹس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ تکنیکی مسائل کی وجہ سے جہاز حادثے کا شکار ہوا۔
امریکی ٹیلیویژن نیٹ ورک این بی سی نیوز اور غیرملکی نیوز ایجنسی کے مطابق حادثے میں ہلاک ہونے والے عملے کے ارکان لیبیا کے نہیں تھے۔ تاہم ان تینوں افراد کی شناخت اور قومیت سے متعلق تاحال تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
یاد رہے کہ لیبیا میں 24 اور 25 دسمبر کو یوم آزادی کی تقریبات کا انعقاد ہونا تھا۔ تاہم اس حادثے کے بعد وزیر اعظم دیبے نے سوگ کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ تین دن تک تمام ریاستی اداروں پر پرچم سرنگوں رہیں گے جبکہ تمام سرکاری اور جشن کی تقریبات معطل کرنے کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔
جنرل محمد علی احمدالحداد کون تھے؟
جنرل محمد علی احمد الحداد 2015 میں طرابلس کے فوجی ضلع میں ایک سینیئر کمانڈر بنے۔ ان کی پوسٹنگ مغربی لیبیا کے انتہائی نازک فوجی علاقوں میں تھی۔
محمد علی احمد الحداد طرابلس میں مزاحمت کرنے والے صفِ اول کے کمانڈروں میں سے ایک تھے۔ علی احمد الحداد نے ملک کے مشرق میں فیلڈ مارشل خلیفہ حفتر کی قیادت میں لیبیا کی قومی فوج کے خلاف مزاحمت کو منظم کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
علی احمد الحداد کو ستمبر 2020 میں لیبیا کی حکومتِ قومی معاہدے کے ذریعے لیبیا کی مسلح افواج کا چیف آف سٹاف
مقرر کیا گیا۔جنرل محمد علی احمد الحداد لیبیا کے چیف آف جنرل سٹاف کے عہدے پر پانچ سال سے زائد عرصے تک فائز رہے اور انھوں نے ترکی کے ساتھ اپنے ملک کے تعلقات کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔



