Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    Facebook Twitter Instagram
    Benaqab News | Welcome to Benaqab News NetworkBenaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    • ہوم
    • اہم ترین
    • پاکستان
    • دنیا کی خبریں
    • صحت
    • انٹرٹینمنٹ
    • کھیل
    • بزنس
    • ٹیکنالوجی

      آج انٹر نیٹ سروسز کی فراہمی بلاتعطل جاری رہے گی،بندش سے متعلقہ خبریں بے بنیاد ہیں، پی ٹی اے

      ارفع کریم کی 14ویں برسی: مریم نواز کا خراجِ تحسین، ‘نواز شریف آئی ٹی سٹی’ کے ذریعے ہر بیٹی کو ارفع بنانے کا عزم

      بھوکی شارک پھر متحرک،کل انٹرنیٹ بند؟

      دنیا کے طاقتور ترین پاسپورٹس کی ہینلے فہرست جاری، پاکستان کانمبر کون سا؟

      سام سنگ گلیکسی ایس 26 کی لانچنگ، پری بکنگ کب سے شروع ہوگی؟

    • بلاگ
    • ویڈیوز

      بلیک ہاک ڈاؤن۔۔۔ اسرائیلی فوج کا ہیلی کاپٹر غزہ میں نیچے جاگرا

      ایران پر امریکی حملہ آخری لمحات میں منسوخ

      قطر، العدید ائیر بیس سے سٹریٹو ٹینکر KC-135 طیاروں کی اڑان

      جب شکاری خود شکار بن گیا

       شام میں بڑی فوجی پیش قدمی: ترک اسپیشل فورسز اور شامی فوج کرد علاقوں کی جانب روانہ

    Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network

    ترکیئےمیں طیارہ حادثہ، لیبیا کے آرمی چیف جنرل الحداد سینئر فوجی حکام کے ہمراہ جاں بحق

    Facebook Twitter LinkedIn WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    انقرہ+طرابلس:ترکی میں فضائی حادثے کے دوران لیبیا کے فوجی سربراہ جنرل محمد علی احمد الحداد دیگر اعلی حکام کے ہمراہ جاں بحق ہو گئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق وہ ایک فالکن 50 طیارے میں چار دیگر افراد کے ساتھ سوار تھے جو ترکی کے دارالحکومت انقرہ سے روانہ ہوا تھا۔

    لیبیا کے صدارتی محل کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ جہازنے منگل 23 ستمبر کو انقرہ سے مقامی وقت کے مطابق رات 8 بج کر 17 منٹ پر اڑان بھری۔
    ڈائریکٹر کیمونیکشن برہانتین دیوران نے کہا کہ جہاز نے 8 بج کر 33 منٹ پر کنٹرول ٹاور سے دوبارہ رابطہ کیا اور تکینکی وجوہات کی بنا پر ہنگامی لینڈنگ کی اجازت مانگی۔
    ایسے میں جب ایئرپورٹ پر ہنگامی لینڈنگ کی تیاری کی جا رہی تھی کہ جہاز  تیزی سے نیچے آنے لگا اور 8 بج کر 36 منٹ پر یعنی 19 منٹ کے بعد جہاز ریڈار سے غائب ہو گیا اور اس کے بعد جہاز سے رابطہ منقطع ہو گیا۔
    حادثے کا شکار ہونے والا جہاز ترکی کے دارالحکومت انقرہ سے لیبیا کے درالحکومت طرابلس جا رہا تھا ۔جہاز میں فوج کے سربراہ کے علاوہ فوج کے دیگر آٹھ سینیئر حکام موجود تھے۔لیبیا کے چیف آف سٹاف محمد علی احمد الحداد کے ہمراہ لیبیا کی لینڈ فورسز کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل فوتوری گریبل، ملٹری مینوفیکچرنگ کارپوریشن کے کمانڈربریگیڈیئر جنرل محمود الکتاوی، لیبیا کے چیف آف جنرل سٹاف کے مشیر محمد العسوی دیاب اور جنرل سٹاف کے فوٹوگرافر محمد عمر احمد محکب جہاز میں موجود تھے

    ا۔لیبیا کی فوج کے سربراہ فالکن 50 نامی جٹ طیارے میں سوار تھے۔ یہ جہاز 1988 کا بنا ہوا ہے۔ ترک حکام کا کہنا ہے کہ جہاز کا ملبہ ایئر پورٹ سے 105 کلو میٹر دور کے ایک دیہات سے ملا ہے جو تقریبا دو کلومیٹر کے علاقے میں پھیلا ہوا ہے۔
    جہاز لیبیا کی حکومت کا نہیں تھا بلکہ اسے آفریقی مالٹا میں میں موجود ایک کمپنی سے لیز پر لیا گیا تھا۔
    اہلکاروں کا کہنا ہے کہ جہاز کا بلیک باکس ابھی تک نہیں ملا ہے۔

    حادثے کی تحقیقات کے لیے لیبیا نے اپنا ایک وفد انقرہ بھجوا رہا ہے۔ لیبیا کے وزیر برائے اطلاعات محمد عمار الافیی نے کہا کہ ’اب تک رپورٹس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ تکنیکی مسائل کی وجہ سے جہاز حادثے کا شکار ہوا۔
    امریکی ٹیلیویژن نیٹ ورک این بی سی نیوز اور غیرملکی نیوز ایجنسی کے مطابق حادثے میں ہلاک ہونے والے عملے کے ارکان لیبیا کے نہیں تھے۔ تاہم ان تینوں افراد کی شناخت اور قومیت سے متعلق تاحال تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
    یاد رہے کہ لیبیا میں 24 اور 25 دسمبر کو یوم آزادی کی تقریبات کا انعقاد ہونا تھا۔ تاہم اس حادثے کے بعد وزیر اعظم دیبے نے سوگ کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ تین دن تک تمام ریاستی اداروں پر پرچم سرنگوں رہیں گے جبکہ تمام سرکاری اور جشن کی تقریبات معطل کرنے کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔
    جنرل محمد علی احمدالحداد کون تھے؟
    جنرل محمد علی احمد الحداد 2015 میں طرابلس کے فوجی ضلع میں ایک سینیئر کمانڈر بنے۔ ان کی پوسٹنگ مغربی لیبیا کے انتہائی نازک فوجی علاقوں میں تھی۔
    محمد علی احمد الحداد طرابلس میں مزاحمت کرنے والے صفِ اول کے کمانڈروں میں سے ایک تھے۔ علی احمد الحداد نے ملک کے مشرق میں فیلڈ مارشل خلیفہ حفتر کی قیادت میں لیبیا کی قومی فوج کے خلاف مزاحمت کو منظم کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
    علی احمد الحداد کو ستمبر 2020 میں لیبیا کی حکومتِ قومی معاہدے کے ذریعے لیبیا کی مسلح افواج کا چیف آف سٹاف
    مقرر کیا گیا۔جنرل محمد علی احمد الحداد لیبیا کے چیف آف جنرل سٹاف کے عہدے پر پانچ سال سے زائد عرصے تک فائز رہے اور انھوں نے ترکی کے ساتھ اپنے ملک کے تعلقات کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔

    Related Posts

    وینزویلا کے تیل پر امریکی کنٹرول کا آغاز: پہلا سودا 500 ملین ڈالر میں طے، قیمتوں میں 30 فیصد اضافہ

    جنوبی کوریا، مارشل لالگانے پر سزائے موت کی بجائے سابق صدر کو صرف 5 سال قید

    امریکا کا ایران پر فضائی حملہ کس کے کہنے پر روکا گیا؟ نیویارک ٹائمز کا اہم انکشاف

    مقبول خبریں

    انڈر 19 ورلڈ کرکٹ کپ2026، پاکستان پہلا میچ انگلینڈ سے ہار گیا

    انڈر19 ورلڈ کرکٹ کپ 2026، افتتاحی میچ میں بھارت نے امریکاکو ہرادیا، ہینیل پیٹل کی 16رنز کے عوض 5 وکٹیں

    کیا اسرائیل نے ایران کو خاموش پیغام دے دیا؟ ڈیمونا ری ایکٹر کے قریب پراسرار زلزلے پر سوشل میڈیا پر نئی بحث چھڑ گئی۔

    متنازع ٹویٹ کیس، ایڈووکیٹس ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی ضمانت منسوخ، گرفتارکرکے پیش کرنیکا حکم

    وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا نیشنل پولیس اکیڈمی کا دورہ، اے ایس پیز کے لیے پلاٹس، بیجنگ میں تربیت اور تنخواہوں میں اضافے کا اعلان

    بلاگ

    “جھپیاں دے پیسے الگ تے پپیاں دے پیسے الگ” “ناچو ناچو، پر آواز ہولی رکھو” ساڈا ویہہ اے، جرم نئیں… پر قانون نوں ایہہ سمجھ آ گئی اے

    اربوں کے فنڈز، پھر بھی خستہ حال گاڑیاں ،، مسئلہ پیسے کا نہیں، نظام کا ہے ٹریکر لگیں تو حقیقت سامنے آئے

    طاقت کے اصول اور جنگل کا قانون۔۔۔۔۔۔۔ سپیڈ بریکر۔۔۔ از میاں حبیب

    عہدوں کی شادیاں، ون ڈش کی خلاف وزری اور سلامی اکٹھی کرنے کا مشن۔۔۔ کالم نگار ملک محمد سلمان

    ویٹو پاور کے سائے میں انصاف کی پکار: وینزویلا کے صدر کی رہائی کا مطالبہ، مگر سلامتی کونسل عملی کارروائی سے قاصر

    Facebook Twitter Instagram Pinterest
    • Disclaimer
    • Terms & Conditions
    • Contact Us
    • privacy policy
    Copyright © 2024 All Rights Reserved Benaqab Tv Network

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.