اسلام آباد :عارف حبیب کنسورشیم نے 135 ارب روپے میں پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (پی آئی اے) کو خرید لیا ہے۔منگل کو اسلام آباد میں پی آئی اے کی لائیو نجکاری کے عمل میں عارف حبیب کنسورشیم نے سب سے زیادہ 135 ارب روپے کی بولی لگائی جبکہ لکی کنسورشیم 134 ارب روپے کی بولی تک محدود رہا۔
پی آئی اے کی نجکاری کے دوسرے مرحلے میں عارف حبیب کنسورشیم نے سب سے زیادہ 121 ارب روپے کی بولی لگائی۔ جبکہ لکی کنسورشیم نے 120 ارب 25 کروڑ روپے کی بولی لگائی اور 30 منٹ کا اضافی وقت بھی مانگا۔ تاہم بعد میں بھی عارف حبیب کنسورشیم ہی آگے رہا۔
پہلے مرحلے میں لکی کنسورشیم نے 101 ارب 50 کروڑ، ایئربلیو کنسورشیم نے 26 ارب 50 کروڑ جبکہ عارف حبیب کنسورشیم نے 115 ارب روپے کی بولی لگائی تھی۔اسلام آباد میں پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کی بولی کے مرحلہ وارعمل میں وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وزیراطلاعات، وزیرنجکاری، تینوں کنسورشیم کے نمائندوں کےعلاوہ دیگرحکام بھی موجود ہیں۔
اس موقع پر وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ بولی میں جوبھی جیتے گا، جیت پاکستان کی ہوگی، پاکستان میں سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھا ہے، منرل اور مائننگ ایک گیم چینجنگ سیکٹر ہے۔
چیئرمین نجکاری کمیشن محمد علی کا کہنا تھا کہ پی آئی اے کی نجکاری اصلاحاتی ایجنڈے کا حصہ ہے، حکومت چاہتی ہے کہ پی آئی اے میں زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری ہو، 2 بڈز کی 75 فیصداور 2 کی 100 فیصد شیئرز لینے کی درخواست تھی، بڈنگ 75 فیصد شیئرزکی ہے۔
محمد علی کا کہنا تھا کہ بولی جیتنے والے بڈرز کے پاس 25 فیصد مزید شیئرز لینے کا آپشن ہوگا، پی آئی اے کی نجکاری حکومتی ریفارمزکا نتیجہ ہے، پی آئی اے کی نجکاری سے ملک میں سرمایہ کاری آئےگی، اپریل 2025 میں پی آئی اے کی نجکاری کا فیصلہ ہوا تھا۔
پی آئی اے کے 75 فیصد حصص کی نجکاری کے عمل میں نجکاری کمیشن کے مطابق بولی دہندگان نے اپنی سیل شدہ بولیاں صبح ساڑھے دس بجے سے ساڑھے گیارہ بجے کے درمیان جمع کرائیں، جو براہِ راست میڈیا اور بولی دہندگان کی موجودگی میں کھولی گئیں۔
حکومتی منصوبے کے مطابق کامیاب بولی دہندہ پی آئی اے کے باقی پچیس فیصد حصص خریدنے کا بھی حقدار ہوگا، جس کے لیے اسے نوے دن کی مدت دی جائے گی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ممکنہ نئے سرمایہ کار کو آئندہ پانچ برسوں میں کم از کم اسی ارب روپے کی سرمایہ کاری کرنا ہوگی تاکہ ائرلائن کی بہتری اور آپریشنل امور کو مستحکم کیا جا سکے۔
نجکاری کمیشن کے مطابق پچھتر فیصد حصص کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم کا بانوے اعشاریہ پانچ فیصد پی آئی اے میں دوبارہ سرمایہ کاری کے لیے استعمال کیا جائے گا، جبکہ سات اعشاریہ پانچ فیصد رقم حکومت کو منتقل کی جائے گی۔ اس اقدام کا مقصد یہ ہے کہ زیادہ تر سرمایہ براہِ راست قومی ائرلائن کی بحالی اور ترقی پر خرچ ہو۔
ایک کنسورشیم لکی سیمنٹ لمیٹڈ، حب پاور ہولڈنگز لمیٹڈ، کوہاٹ سیمنٹ کمپنی لمیٹڈ اور میٹرو وینچرز پرائیویٹ لمیٹڈ پرمشتمل ہے۔ دوسرا کنسورشیم عارف حبیب کارپوریشن لمیٹڈ، فاطمہ فرٹیلائزر کمپنی لمیٹڈ، سٹی اسکولز پرائیویٹ لمیٹڈ اور لیک سٹی ہولڈنگز پرائیویٹ لمیٹڈ پر مشتمل ہے، جبکہ تیسرا بولی دہندہ ایئر بلیو پرائیویٹ لمیٹڈ ہے۔
پی آئی اے کے ملازمین کے تحفظ کے لیے نجکاری کمیشن کا کہنا ہے کہ ایک سال تک ملازمتوں کا تحفظ یقینی بنایا جائے گا، جبکہ پنشن اور ریٹائرمنٹ کے بعد کے فوائد کی ذمہ داری ہولڈنگ کمپنی پر ہوگی۔
اس سے قبل حکومت نے پی آئی اے کے سو فیصد حصص فروخت کرنے کا فیصلہ کیا تھا، تاہم بعد ازاں یہ طے کیا گیا کہ پچیس فیصد حصص کامیاب بولی دہندہ کو بارہ فیصد اضافی قیمت پر پیش کیے جائیں گے، جن کی ادائیگی ایک سال بعد کرنے کی سہولت بھی دی جائے گی۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس انتظام سے قومی ائرلائن کی نجکاری کے عمل کو شفاف اور سرمایہ کاروں کے لیے قابل عمل بنایا گیا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ آج ہونے والا بولی کا عمل براہِ راست ٹیلی وژن پر بھی دکھایا جا رہا ہے، تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے اور عوام کو اس اہم فیصلے کے بارے میں آگاہ رکھا جا سکے۔

