سڈنی :آسٹریلیا کے مشہور سڈنی بونڈائی بیچ پر دو مشتبہ حملہ آوروں نے فائرنگ کر کے 12 افراد کو ہلاک کر دیا ہے۔
غیرملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق واقعے میں کئی افراد زخمی بھی ہوئے۔ فائرنگ سے افراتفری پھیل گئی اور متعدد زخمیوں کو زمین پر لیٹے ہوئے دیکھا گیا۔
نیو ساؤتھ ویلز پولیس نے بتایا ہے کہ آسٹریلیا کے سب سے بڑے شہر میں معروف سیاحتی مرکز میں فائرنگ سے 29 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں جن کو قریبی ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔آسٹریلوی وزیراعظم انتھونی البانیز نے کہا ہے کہ ’بونڈائی بیچ پر شیطانی حملہ بیان سے باہر ہے۔پولیس کے مطابق مشتبہ حملہ آوروں میں سے ایک کی کار پارکنگ میں کھڑی پائی گئی جس میں دیسی ساختہ بم نصب تھا جس کو ناکارہ بنا دیا گیا۔
ریاست نیو ساؤتھ ویلز کے وزیراعظم نے سڈنی کے ساحل پر فائرنگ میں یہودی کمیونٹی کو نشانہ بنائے جانے کی تصدیق کی۔
وزیراعظم کرس منز نے نیوز بریفنگ میں بتایا کہ یہ سڈنی کی یہودی کمیونٹی پر مذہبی اجتماع کے پہلے دن کیا گیا ایک منظم حملہ تھا۔
پولیس کے مطابق ایک مبینہ حملہ آور کو ہلاک کر دیا گیا جبکہ دوسرا زخموں کے باعث تشویشناک حالت میں ہے۔
چلی سے تعلق رکھنے والے 25 سالہ سیاح کامیلو ڈیاز نے جائے واردات پر اے ایف پی کو بتایا کہ ’ہم نے فائرنگ کی آواز سُںی۔ یہ نہایت خوفناک تھی جو لگ بھگ 10 منٹ جاری رہی۔ یہ کسی بڑی گن کے چلائے جانی والی گولیوں کی آواز تھی۔
ساحل پر موجود ہجوم میں بھگدڑ مچ گئی اور لوگ خوفزدہ ہو کر پناہ کی تلاش میں بھاگ پڑے۔
مشرقی سڈنی کا بونڈائی ساحل ہر اختتام ہفتہ بڑی تعداد میں سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے جہاں سرفرز اور سوئمرز بھی جمع ہوتے ہیں۔نیو ساؤتھ ویلز پولیس کے مطابق ایمرجنسی سروسز کو فائرنگ کے واقعے کی پہلی اطلاع شام پونے سات بجے ملی۔
پولیس کے بیان میں بتایا گیا ہے کہ جائے وقوعہ سے ملنی والی مشتبہ اشیا کا ماہر افسران جائزہ لے رہے ہیں اور علاقے کو عام لوگوں کے داخلے کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔
اسرائیل کے صدر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ یہودی افراد ساحل پر ایک مذہبی اجتماع کے لیے اکھٹے ہوئے تھے جن کو ’دہشت گردوں‘ نے نشانہ بنایا۔

