واشنگٹن : امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انڈیا کو امریکا کی مارکیٹ میں چاول ڈمپ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں امریکی کاشتکاروں اور زراعت کے شعبے سے منسلک افراد کے نمائندوں سے ملاقات کی۔
وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری ایک ویڈیو میں کینیڈی رائس مل سے منسلک میرل کینیڈی کو صدر ٹرمپ کو بتاتے سنا جا سکتا ہے کہ ان کا ماننا ہے کہ کچھ ممالک امریکی مارکیٹ میں چاول ڈمپ کر رہے ہیں اور اس سے جنوبی امریکا کے کاشتکار بہت متاثر ہو رہے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ یہاں بات صرف قیمتوں کی نہیں۔
اس پر ٹرمپ نے سوال کیا کہ وہ کونسے ممالک ہیں جو اس عمل میں شامل ہیں۔ اس پر میرل کینیڈی نے بتایا کہ انڈیا اور تھائی لینڈ امریکا میں چاول ڈمپ کر رہے ہیں جبکہ چین یہی کام پورٹو ریکو میں کر رہا ہے جو کبھی امریکا کے کاشتکاروں کے لیے سب سے بڑی منڈی ہو اکرتا تھا۔
ڈمپنگ سے مراد کسی بھی ملک کی جانب سے کسی دوسرے ملک میں انتہائی کم قیمت پر کوئی مصنوعات فروخت کرنا تاکہ اس پراڈکٹ کا زیادہ سے زیادہ مارکیٹ شیئر حاصل کیا جا سکے۔
میرل کینیڈی کا کہنا تھا کہ درآمدی ٹیرف عائد کرنے سے کام بن رہا ہے لیکن ہمیں ٹیرف میں مزید اضافہ کرنے کی ضرورت ہے۔
اس موقع پر امریکی صدر نے اپنے وزیرِ تجارت سکاٹ بیسنٹ سے پوچھا کہ انڈیا کو اس بات کی اجازت کیوں دی جا رہی ہے؟ انھیں تو اس [چاول کی برآمد] پر ٹیرف ادا کرنا ہوتا ہے، کیا انھیں چاول پر کوئی چھوٹ حاصل ہے؟
وزیرِ تجارت کا کہنا تھا کہ ایسا نہیں ہے اور انڈیا کے ساتھ تجارتی معاہدے پر ابھی کام جاری ہے۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ انڈیا کو چاول کی ڈمپنگ نہیں کرنی چاہیے، انھیں ایسا نہیں کرنے دیا جا سکتا۔

