ڈھاکا:بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم خالدہ ضیاء کی حالت بدستور تشویشناک ہے اور ان کی دیکھ بھال کرنے والے میڈیکل بورڈ نے انہیں بہتر علاج کے لیے لندن بھیجنے کا فیصلہ کیا۔خالدہ کے ذاتی معالج اے زیڈ ایم مجاہد حسین نے انہیں قطرکی جانب سے بھیجی گئی ائیر ایمولینس پر لندن منتقل کیا جائے گا،
بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کی چیئرپرسن خالدہ ضیاء (80) کو ایئر ایمبولینس کے ذریعے لندن لے جایا جائے گا، جہاں ان کے بڑے بیٹے اور بی این پی کے قائم مقام سربراہ طارق رحمان رہتے ہیں۔ انہیں 23 نومبر کو دل اور پھیپھڑوں میں انفیکشن کے باعث ایک پرائیویٹ ہسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔
اسپتال میں داخل ہونے کے چار دن بعد، ان کو کورونری کیئر یونٹ (سی سی یو) میں داخل کرایا گیا کیونکہ ان کی صحت کی خرابی بڑھ گئی تھی۔ حسین نے ہسپتال کے باہر صحافیوں کو بتایا میڈیکل بورڈ نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا ہے کہ انہیں قطر کی رائل ایئر ایمبولینس کے ذریعے یا تو آدھی رات کے بعد یا کل صبح لندن لے جایا جائے گا۔حسین بی این پی کی پالیسی سازی کی قائمہ کمیٹی کے رکن بھی ہیں۔ انہوں نے واضح طور پر ضیاء کی صحت کی موجودہ حالت پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
بی این پی نے ایک فہرست جاری کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ 14 افراد ضیاء کے ساتھ لندن جائیں گے، جن میں چھوٹے بیٹے عرفات رحمان کی اہلیہ سیدہ شمائلہ رحمان اور چھ ڈاکٹر شامل ہیں۔
قطر نے کہا کہ وہ ضیا کو لندن لے جانے کے لیے ایئر ایمبولینس فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔ دریں اثنا، جمعرات کو آرمی اور ایئر فورس کے دو ہیلی کاپٹروں نے ڈھاکہ کے ایور کیئر ہسپتال کی چھت پر ٹیسٹ لینڈنگ کی، جہاں ضیاء ابھی تک ہسپتال میں داخل ہیں۔
سرکاری خبر رساں ایجنسی بی ایس ایس کے مطابق، چار رکنی چینی طبی دیر گئے ایور کیئر ہسپتال پہنچی، جہاں انہوں نے بی این پی کے چیئرپرسن کے علاج کے اختیارات کا جائزہ لینے کے لیے میڈیکل بورڈ سے ملاقات کی۔ ڈاکٹر رچرڈ بیول کی قیادت میں برطانوی ماہرین کی چار رکنی ٹیم ضیاء کا علاج کر رہی تھی اور اس کے ساتھ چینی ڈاکٹروں کی ٹیم بھی شامل تھی۔
،

