نئی دہلی :روسی صدر ولادیمیر پوٹن جمعرات کو دو روزہ دورے پر نئی دہلی پہنچے، جہاں ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا جس کا مقصد دفاعی تعلقات کو مضبوط بنانا ہے۔
یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب نئی دہلی ماسکو سے تیل خریدنے پر شدید امریکی دباؤ کا سامنا کر رہا ہے۔
انڈین وزیر اعظم نریندر مودی، جو ماسکو سے تیل کی خریداری روکنے کے لیے شدید امریکی دباؤ میں ہیں، ایئرپورٹ پر خود موجود تھے اور سرخ قالین پر صدر پوتن کا گلے لگا کر استقبال کیا۔ دونوں بعد میں ایک ہی گاڑی میں سفر کرتے ہوئے روانہ ہوئے۔یوکرین جنگ کے بعد پوتن کا یہ پہلا دورۂ انڈیا ہے۔ وہ اپنے وزیرِ دفاع آندرے بیلاؤسوف کے ہمراہ آئے ہیں، اور توقع ہے کہ جنگی طیاروں اور فضائی دفاعی نظام سے متعلق ممکنہ معاہدوں پر گفتگو کی جائے گی۔
انڈیا ٹوڈے کو دیے گئے انٹرویو میں پوتن نے کہا کہ وہ اپنے ’دوست مودی‘ سے مل کر بہت خوش ہیں۔
ان کے بیان کے مطابق پوتن نے کہا، ’انڈیا کے ساتھ ہمارے تعاون کی نوعیت بہت وسیع ہے۔ انہوں نے اس حوالے سے جہاز سازی، طیارہ سازی، جوہری توانائی اور خلائی تحقیق کا حوالہ دیا۔
دفاع کے علاوہ، تجارت بھی اہم موضوع رہے گا کیونکہ انڈیا ایک مشکل سفارتی توازن قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ایک طرف انڈیا روسی تیل پر انحصار کر رہا ہے، اور دوسری طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ناراض نہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے ۔

