واشنگٹن:امریکی سینٹرل کمانڈ نے مشرق وسطیٰ میں "سکورپین سٹرائیک” کے نام سے ایک ٹاسک فورس شروع کی ہے۔ امریکی وزارت جنگ اور سینٹرل کمانڈ نے امریکی افواج کے لیے ایک ڈرون یونٹ کے قیام کا اعلان کیا ہے۔ یہ یک طرفہ ڈرون لوکاس کمپنی نے بنائے ہیں۔
مشرق وسطیٰ میں ان قاتل ڈرونز کی ایک بڑی تعداد تعینات کر دی ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے کمانڈر ایڈمرل "بریڈ کوپر” نے کہا ہے کہ ان کے بقول یہ اقدام مشرق وسطیٰ میں شرپسند عناصر کو روکے گا۔پانچویں بحری بیڑے کے کمانڈر ایڈمرل بریڈ کوپر نے "بحری ڈرون” کا منصوبہ اور پروگرام ایجاد کیا۔ اور اب وہ سینٹرل کمانڈ کے کمانڈر بن گئے ہیں اور انہوں نے ایرانیوں کو ناکام بنانے اور انہیں روکنے کے لیے ایک بڑا منصوبہ اپنایا ہے جو یک طرفہ ڈرون کا منصوبہ ہے۔ یہ وہ ڈرونز ہیں جنہیں آپریٹر دھماکہ خیز مواد سے لیس کر کے لانچ کرتا ہے اور وہ واپس نہیں آتے بلکہ دھماکہ خیز وار ہیڈ والے میزائل کی طرح ہوتے ہیں۔
تعیناتی امریکیوں کی جانب سے اپنی نوعیت کی پہلی ہے اور یہ ڈرون حملے کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور ان میں دھماکہ خیز مواد کے علاوہ جدید ٹیکنالوجی اور صلاحیتیں موجود ہیں۔امریکی اب سمجھتے ہیں کہ انہیں ایران کو روکنے کا حل مل گیا ہے۔ ایک امریکی عہدیدار نے امریکی منصوبہ واضح کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے حملوں کے دوران اپنا فضائی دفاع کھو دیا ہے اور اب اس کی فضائیں دوسروں کے لیے کھلی ہیں ۔ ایک بڑی تعداد میں ڈرونز کے حملوں کے لیے کمزور ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ امریکیوں نے اپنے ڈرونز کی ایک بڑی تعداد تعینات کی ہے لیکن انہوں نے جدید امریکی ڈرونز کی صحیح جگہ یا تعداد بتانے سے گریز کیا۔

