لندن :امریکی سائٹ "فاکس نیوز” کی رپورٹ کے مطابق "ٹائٹینک” کے سب سے مشہور مسافروں میں سے ایک، اسیدور سٹراؤس کی ایک سونے کی جیبی گھڑی نے برطانیہ میں منعقدہ ایک نیلامی میں 2.3 ملین ڈالر میں فروخت ہو کر ریکارڈ قائم کردیا۔
نیویارک میں مشہور "میسی” سٹور کے شریک مالک سٹراؤس 1912 کی تباہی کے دوران ہلاک ہونے والی نمایاں شخصیات میں سے ایک تھے۔ وہ اپنی اہلیہ ایڈا کے ساتھ یورپ سے اپنے آخری سفر کے دوران گھڑی لے کر گئے تھے۔ ان کی اہلیہ بچاؤ کشتی پر سوار ہونے سے انکار کرنے کے بعد محبت اور وفاداری کی علامت بن گئیں اور انہوں نے اپنے شوہر کے ساتھ مرنے کو ترجیح دی۔
یہ گھڑی، جو جولس جورگنسن برانڈ کے 18 قیراط سونے سے بنی تھی، سٹراؤس کو 1888 میں ان کی اہلیہ ایڈا نے ان کی سالگرہ پر تحفہ دی تھی۔ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ 15 اپریل 1912 کو صبح 2:20 پر بالکل رک گئی تھی۔ یہ وہ لمحہ تھا جب بحری جہاز مکمل طور پر بحر اوقیانوس کی سطح کے نیچے ڈوب گیا تھا۔ نیلام گھر "ہنری ایلڈریج اینڈ سن” کے ڈائریکٹر اینڈریو ایلڈریج نے کہا کہ یہ جیبی گھڑی ایک بہت ہی ذاتی ٹکڑا ہے جو ایک گہری انسانی کہانی رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹائٹینک کے مسافروں کی یادگاریں 113 سال بعد بھی ان کی کہانیوں کو زندہ رکھے ہوئے ہیں اور بیسویں صدی کی سب سے بڑی المیوں میں سے ایک کو دوبارہ زندہ کرتی کررہی ہیں۔

