واشنگٹن :امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی نے دہشت گردی اور دیگر سنگین جرائم میں ملوث 6 افغان شہریوں کو ملک بدر کرنے کا اعلان کرتے ہوئے ان کی تصاویر جاری کر دی ہیں۔ یہ افراد بائیڈن انتظامیہ کے دور میں امریکا میں داخل ہوئے اور بعد میں مختلف پر تشدد واقعات میں ملوث پائے گئے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی نے متعدد افغان شہریوں کی تصاویر جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ افراد امریکا کی مہمان نوازی کے بدلے تشدد اور جرائم میں ملوث ہوئے۔ محکمے کے مطابق، جن افراد کو ملک میں رہنے کی اجازت دی گئی تھی، انہوں نے یہاں داخلے کے بعد مختلف جرائم کا ارتکاب کیا۔
Zabihullah Mohmand, an Afghan national who was resettled in Montana by the Biden administration, was charged with the rape of a teenage girl in a Missoula motel room. pic.twitter.com/SCG4fXfx2J
— Homeland Security (@DHSgov) November 29, 2025
ہوم لینڈ سیکیورٹی کی جانب سےجاری فہرست میں کہاگیاکہ بائیڈن انتظامیہ نے ہمارے معاشروں کو مجرموں اور دہشت گردوں سے بھر دیا، ہزاروں افغان شہریوں کو امریکا لایاگیا، جنہوں نے امریکیوں کو نقصان پہنچایا۔
Abdullah Haji Zada and Nasir Ahmed Tawhedi, both Afghan nationals given legal status by the Biden administration, were arrested and prosecuted for plotting a terrorist attack in Oklahoma City for Election Day 2024. They possessed hundreds of rounds of ammunition and had pledged… pic.twitter.com/GTqxxdpQkq
— Homeland Security (@DHSgov) November 29, 2025
ہوم لینڈ سیکیورٹی کے مطابق، جمال ولی نامی افغان شہری نے ورجینیا میں دو پولیس افسران کو گولی مار کر زخمی کیا، پولیس کی جوابی فائرنگ میں جمال ولی مارا گیا۔
جبکہ عبداللہ حاجی زادہ اور ناصر احمد توحیدی اوکلاہوما میں دہشت گردی کی منصوبہ بندی کرتے پکڑے گئے۔
ہوم لینڈ سیکیورٹی کا کہنا ہے کہ دونوں 2024 میں الیکشن ڈے پر گرفتار ہوئے، ان کےقبضے سے سیکڑوں گولیاں ملیں، دونوں افغان شہری داعش سے وفاداری کا اعلان کرچکے تھے۔
محکمے کا کہنا ہے کے مطابق محمد خروین نامی شخص دہشت گردوں کی واچ لسٹ میں شامل تھا۔ اسے 2024 میں بارڈر پولیس نے حراست میں لیا لیکن بعد میں رہا کر دیا گیا، جس کے بعد وہ ایک سال سے زائد عرصہ آزاد گھومتا رہا۔ اسے بعد میں دوبارہ گرفتار کر لیا گیا۔
محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کے مطابق جاوید احمدی ایک غیر قانونی افغان تارک وطن تھا، جسے 2025 میں امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ نے سیکنڈ ڈگری حملے کے الزام میں گرفتار کیا۔ حالانکہ اس سے قبل اسے امریکا میں رہنے کی اجازت دے دی گئی تھی۔ہوم لینڈ سیکیورٹی کے مطابق بحراللہ نوری نامی شخص کو وسکونسن کے فورٹ میک کوئے میں کم عمر بچی سے جنسی فعل کی کوشش پر گرفتار کیا گیا۔
محکمے نے بتایا کہ بائیڈن دور میں مونٹانا میں آباد کیے گئے ذبیح اللہ مہمند پر مسولا کے ایک موٹیل میں کم سن لڑکی سے زیادتی کے الزام میں مقدمہ درج کیا گیا۔
محکمے کے مطابق یہ افراد ان ’چند مجرموں‘ میں شامل ہیں جنہیں بائیڈن انتظامیہ کی جانب سے ’مکمل طور پر جانچ پڑتال‘ کے بعد امریکا آنے کی اجازت دی گئی تھی۔

