واشنگٹن : وائٹ ہاؤس کے نزدیک افغان باشندے کی جانب سے نیشنل گارڈز کے اہلکاروں پر فائرنگ کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے پناہ گزینوں سے متعلق تمام فیصلے روکنے کا اعلان کر دیا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق یو ایس سٹیزن شپ اینڈ امیگریشن سروسز کے ڈائریکٹر جوزف ایڈلو نے ایکس پر اپنے پیغام میں لکھا ہے کہ ’پناہ گزینوں سے متعلق تمام فیصلے اُس وقت تک روک دیے گئے ہیں جب تک ہم یہ یقین نہ کر لیں کہ ہر اجنبی کی مکمل طور پر جانچ اور سکریننگ ہو چکی ہے۔
یادرہے اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نےافغان پاسپورٹ پرسفر کرنے والے تمام افراد کے لیےویزوں کا اجرا بھی معطل کر دیا گیا ہے۔
‘دوسری جانب واشنگٹن میں نیشنل گارڈ کے دو اہلکاروں پر فائرنگ کر کے ایک کو ہلاک کرنے کے الزام میں افغان شہری پر فرسٹ ڈگری قتل کے الزامات عائد کیے جائیں گے۔
روئٹرز کے مطابق ڈسٹرکٹ آف کولمبیا کی امریکی اٹارنی جینین پیرو نے جمعے کو فاکس نیوز پر بتایا کہ 29 سالہ رحمان اللہ لکنوال کے خلاف مزید الزامات بھی لگائے جائیں گے۔
ان کے مطابق ملزم نے بدھ کے روز وائٹ ہاؤس کے قریب ویسٹ ورجینیا نیشنل گارڈ کے اہلکاروں پر فائرنگ کی تھی۔
رحمان اللہ لکنوال پر باقاعدہ فردِ جرم ابھی تک عائد نہیں کی گئی ہے۔
خیال رہے کہ بدھ کو ایک افغان نژاد شہری نے امریکہ کے دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں وائٹ ہاؤس کے قریب نیشنل گارڈز کے دو اہلکاروں کو فائرنگ کر کے زخمی کر دیا تھا۔
تفتیش کاروں نے 29 سالہ رحمان اللہ لکنوال نامی حملہ آور کا تعلق افغانستان سے بتایا ہے، جو امریکی شہری ہے اور افغانستان میں امریکی فوج کے ساتھ کام کر رہا تھا۔
صدر ٹرمپ نے اس حملے کو ’برائی، نفرت اور دہشت گردی‘ کی کارروائی قرار دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ مشتبہ شخص 2021 میں اُن ’بدنامِ زمانہ پروازوں‘ کے ذریعے امریکہ پہنچا تھا جن سے افغان شہریوں کا انخلا کیا جا رہا تھا۔
اس واقعے کے کچھ ہی گھنٹے بعد امریکی شہریت و امیگریشن سروسز (یو ایس سی آئی ایس) نے بدھ کی رات اعلان کیا کہ اس نے افغان شہریوں کے کیسز کی پراسیسنگ غیرمعینہ مدت کے لیے روک دی ہے۔

