واشنگٹن (بے نقاب رپورٹ ) امریکی سیاست میں ایک بار پھر ہنگامہ! سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک دھماکہ خیز اعلان کرتے ہوئے مینیسوٹا میں رہنے والے صومالی تارکین وطن کی عارضی طور پر محفوظ حیثیت (TPS) کو "فوری طور پر ختم” کرنے کا دعویٰ کر دیا—وہ بھی بغیر کسی ثبوت اور قانونی تقاضوں کا ذکر کیے۔ٹرمپ نے ’ٹروتھ سوشل‘ پر کہا کہ ’’صومالی گینگ‘‘ ریاست کو خوفزدہ کر رہے ہیں اور ’’اربوں ڈالر غائب‘‘ ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے گورنر ٹم والز پر بھی تنقید کے تیر برسائے، ریاست کو ’’منی لانڈرنگ کا مرکز‘‘ قرار دے دیا۔
لیکن ماہرین کے مطابق یہ اعلان صرف سیاسی بیانیہ ہے۔ مائیگریشن پالیسی انسٹی ٹیوٹ نے واضح کیا کہ TPS کو فوری طور پر ختم کرنا قانونی طور پر ممکن ہی نہیں اور یہ فیصلہ عدالتوں میں چیلنج ہوتا ہوا نظر آئے گا۔قانون کے مطابق حکومت کو کم از کم 60 دن پہلے باضابطہ نوٹس دینا ہوتا ہے۔مینیسوٹا کے اٹارنی جنرل کیتھ ایلیسن نے بھی سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا:“ٹرمپ ایک شخصی خواہش پر لاکھوں خاندانوں کے مستقبل سے نہیں کھیل سکتے۔
اعداد و شمار کے مطابق ریاست میں 75 ہزار سے زائد صومالی نژاد افراد رہتے ہیں، تاہم صرف 705 افراد TPS کے تحت ہیں—اور ان کی قانونی حیثیت مارچ 2026 تک پہلے ہی محفوظ ہے۔کانگریس وومن الہان عمر نے ٹرمپ کے بیان کو نسل پرستانہ اور گمراہ کن قرار دیتے ہوئے کہا:“صومالی یہاں رہنے کے لیے ہیں—ہم امریکہ کا حصہ ہیں۔”دوسری جانب مینیسوٹا کے مقامی رہنماؤں نے بھی کہا کہ چند افراد کے جرائم کو پورے کمیونٹی پر تھوپنا نقصان دہ اور خطرناک ہے۔منیاپولس سٹی کونسل کے رکن جمال عثمان نے کہا:“یہ لوگ کاروبار چلاتے ہیں، ٹیکس دیتے ہیں، مینیسوٹا کی ترقی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔”ماہرین کے مطابق ٹرمپ کا یہ تازہ بیان انتخابی سیاست کا حصہ ہے، مگر اس نے صومالی کمیونٹی میں بے چینی ضرور پیدا کر دی ہے۔یہ معاملہ اب قانونی، سیاسی اور اخلاقی تینوں محاذوں پر ایک نئی بحث چھیڑ چکا ہے۔


