تحریر:سہیل احمد رانا
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتا ہے
شہر کی مصروف ترین سڑکوں پر روزانہ نہ جانے کتنی داستانیں دب جاتی ہیں، مگر یہ منظر جو کیمرے میں محفوظ ہوا وہ صرف ایک ویڈیو نہیں، ایک پوری قوم کی حالتِ زار کا چہرہ تھا۔ یہ وہی ملک ہے جہاں اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے چند لوگ اربوں کے قرض لیتے ہیں، اور پھر آئی ایم ایف کی فائلوں میں لکھا جاتا ہے کہ پاکستان کے ہر شہری پر تین لاکھ روپے واجب الادا ہیں، لیکن یہ تین لاکھ کس نے لیے؟ اور کس نے ادا کرنے ہیں؟
اس کا جواب اس ویڈیو میں پڑا وہ بچہ دے رہا ہے، جس کے ہاتھ میں سبزی ہے اور گود میں زندگی کی تھکن۔ ویڈیو میں دکھایا گیا کمسن بچہ سڑک کنارے اس طرح پچھڑے پڑا ہے جیسے قسطوں نے نہیں، زندگی نے لات مار دی ہو۔ یہ وہ معصوم چہرہ ہے جو نہ بینک کا فارم بھرنا جانتا ہے، نہ قرض کی قسط کا شیڈول، مگر حساب کتاب کی ساری ضربیں اسی کے جسم پر لگتی ہیں۔
قریب کھڑی ایمبولینس کے اہلکار بھی کنفیوژن میں کھڑے ہیں یہ بچہ بیمار ہے؟ بھوکا ہے؟
یا آئی ایم ایف کی مقرر کردہ قسطوں کا بوجھ اٹھاتے اٹھاتے گر پڑا ہے؟
ایسا لگتا ہے جیسے انہیں سمجھ نہیں آ رہا کہ اسے اسپتال لے جائیں یا کسی عالمی کانفرنس میں بطور مثال پیش کریں کہ
“یہ ہے وہ پاکستانی جسے ہم نے تین لاکھ روپے کا مقروض قرار دیا ہے!”
ذرائع کا کہنا ہے کہ بچے کی اصل بیماری غربت نہیں، قسط کا دباؤ ہے۔
کیونکہ گزشتہ ہفتے تک آئی ایم ایف نے پاکستان کو ہدایت دی تھی کہ
کم از کم عوام یہ تو دکھائیں کہ قسط دینے کا ارادہ رکھتے ہیں!
اب سوال یہ ہے
قرض لینے والے کہاں ہیں؟
اور قسط کا بوجھ اٹھانے والے کون ہیں؟
اگر یہ بوجھ واقعی عوام نے اٹھانا ہے تو پھر آج سڑک پر لیٹا یہ بچہ لاوارث نہیں،
یہ پوری قوم کی نمائندگی کر رہا ہے۔ یہ ویڈیو ایک بینرز ہے جس پر صاف لکھا ہے قسطیں لیڈروں نے لیں… اور ڈرامے عوام نے کرنے ہیں!


