لاہور (ملک ظہیر کی رپورٹ)
سموگ کا اصل ذمہ دار آخر کون؟ صنعتی دھواں؟ بھٹوں کی چمنیاں؟ یا وہی روایتی دشمن— گلی محلے کے بار بی کیو اور علی الصبح تک تلنے والی مچھلی، جس کے دھوئیں میں عوام کے خواب بھی "فرائی” ہو جاتے ہیں۔ جیسے ہی سردی آتی ہے، عوام انگاروں پر قورمہ چڑھاتے ہیں اور فضا میں سموگ کا شور مچ جاتا ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے ہر محلے نے اپنا ذاتی "اسموگ پلانٹ” لگا رکھا ہو۔
ترجمان پنجاب پولیس کے مطابق پچھلے 24 گھنٹوں میں پولیس نے وہی کارروائیاں کیں جن کا انتظار فضا میں اڑتے ہر ذرے کو تھا۔ 23 مقدمات درج ہوئے، کئی قانون شکن پکڑے گئے، مگر افسوس… کسی محلے دار کے بار بی کیو اسٹال کو ابھی تک ہتھکڑی نہیں لگی۔ پولیس نے 556 افراد سے 13 لاکھ 54 ہزار روپے جرمانے بھی وصول کیے—شاید یہ وہی لوگ تھے جنہوں نے چولہے کا دھواں گھر کے اندر رکھنے سے انکار کر دیا تھا۔ 46 افراد کو محض وارننگ پر چھوڑ دیا گیا تاکہ وہ اگلی بار "ککنگ ٹائم” تھوڑا کم رکھیں۔ فصلیں جلانے کی 2 خلاف ورزیاں سامنے آئیں اور دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کی 336 گاڑیاں پکڑی گئیں۔ پولیس نے مزید بتایا کہ صنعتی سرگرمیوں کی 4 اور بھٹوں کی 6 خلاف ورزیاں بھی رپورٹ ہوئیں ۔اور یہ سب اس وقت ہوا جب محلے میں بھوننے والی مچھلی کا دھواں ابھی تک آسمان کی طرف سفر کر رہا تھا۔ رواں سال کے مجموعی اعداد و شمار ایسے لگتے ہیں جیسے پولیس نے سموگ کے خلاف پورا "ایل بی ڈبلیو” کر دیا ہو۔ 2749 مقدمات، 2422 گرفتاریاں، 94 ہزار افراد کو جرمانے، اور ہزاروں وارننگز۔ فصلیں جلانے کی 1762 اور دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کی 57,310 خلاف ورزیاں تو شاید خود سموگ نے گن کر پولیس کو بتائی ہوں۔
آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے حکم دیا ہے کہ شاہراہوں، انڈسٹریل ایریاز اور زرعی علاقوں میں کارروائیاں مزید تیز کی جائیں۔ ساتھ ہی سختی سے ہدایت کی گئی کہ سموگ ایس او پیز کی خلاف ورزی پر کسی کو نہ چھوڑا جائے—چاہے وہ بھٹہ ہو، فیکٹری ہو یا کسی محلے کے کونے پر لگا بار بی کیو اسٹال، جو صبح تک دھواں چھوڑ کر آسمان کو دھنیا کے مصالحے کی خوشبو میں لپیٹ دے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ اگر یہی رفتار رہی تو جلد لاہور کے شہریوں کو سانس لیتے وقت مینو بھی دینا پڑے گا.

