واشنگٹن: سعودی ولی عہد پرنس محمد بن سلمان کا وائٹ ہاؤس میں شاہانہ خیر مقدم، صدر ڈونلڈ ٹرمپ نےسعودی عرب کو ایک بڑا نان نیٹو اتحادی کا درجہ دیدیا۔ ایف-35 طیارے دینے کا اعلان، سعودی عرب امریکا میں 10 کھرب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا۔
وائٹ ہاؤس میں ڈنر کی میزبانی کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہم سعودی عرب کو باضابطہ طور پر ایک ‘بڑے غیر نیٹو اتحادی’ کے طور پر نامزد کر کے اپنے فوجی تعاون کو مزید بلندیوں تک لے جا رہے ہیں ۔ یادرہے امریکا کے ‘بڑے غیر نیٹو اتحادی’ کا درجہ اب تک صرف پاکستان سمیت 19 ممالک کو ملا ہے۔
واشنگٹن پوسٹ کے صحافی جمال خاشقجی کے قتل کا الزام مسترد
اس دوران ٹرمپ نے امریکی انٹیلی جنس کے ان نتائج کو بھی مسترد کر دیا جس میں کہا گیا تھا کہ 2018 میں واشنگٹن پوسٹ کے صحافی جمال خاشقجی کے قتل میں ولی عہد محمد بن سلمان کا کچھ ہاتھ تھا۔ قابل ذکر ہے کہ جمال خاشقجی کو خفیہ آپریشن کے دوران وحشیانہ طریقے سے قتل کیے جانے کے بعد امریکہ-سعودی تعلقات میں وقتی طور پر تناؤ آ گیا تھا۔ خاشقجی سعودی مملکت کے شدید ناقد تھے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے شہزادہ محمد بن سلمان کادفاع
ٹرمپ نے ولی عہد کے دفاع میں خاشقجی کو "انتہائی متنازع” قرار دیتے ہوئے کہا کہ "بہت سے لوگ اس ‘شریف آدمی’ کو پسند نہیں کرتے تھے۔” خاشقجی ایک سعودی شہری اور ورجینیا کے رہائشی تھے۔
"چاہے آپ پسند کریں یا ناپسند کریں لیکن چیزیں واقع ہوتی ہیں۔” جب اوول آفس میں شہزادہ محمد سلمان کے ساتھ موجود ٹرمپ سے ایک رپورٹر کی جانب سے اس کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا کہ "لیکن وہ (محمد سلمان) اس کے بارے میں کچھ نہیں جانتے تھے۔ اور ہم اسے انہیں پر چھوڑ سکتے ہیں۔ آپ کو ہمارے مہمان کو اس طرح کا سوال پوچھ کر شرمندہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔”
سعودی عرب کی جانب سے 10 کھرب ڈالر سرمایہ کاری کا اعلان
اس موقعے پر سعودی ولی عہد نے اعلان کیا کہ سعودی عرب امریکا میں اپنی منصوبہ بند سرمایہ کاری کو ایک ٹریلین ڈالر تک بڑھا رہا ہے، جو کہ پہلے اعلان کردہ 600 بلین ڈالر سے زیادہ ہے۔ اسی کے ساتھ سعودی شہزادے نے امریکہ کو غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے "کرہ ارض کا سب سے بہترین ملک” قرار دیا۔ اس سے قبل مئی میں جب ٹرمپ ریاض کے دورے پر تھے تو سعودی عرب نے امریکہ میں 600 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا تھا۔
اس کے علاوہ دونوں مممالک نے دیگر اہم معاہدوں پر بھی دستخط کیے جو کیپٹل مارکیٹس اور معدنیات کی اہم منڈیوں کے ساتھ ساتھ منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کے خلاف کوششوں میں قریبی تعاون کی نشاندہی کرتے ہیں۔

