لاہور: رپورٹ اسد مرزا
جہاں لفظ بےنقاب ہوں… وہیں سے سچ کا آغاز ہوتا ہے
غیر ملکیوں کے خلاف آپریشن تیز کرنے کی اعلیٰ ہدایات کیا آئیں، لاہور پولیس نے شیراکوٹ پولیس نے ایسی برق رفتاری دکھائی کہ خالص پاکستانی بھی ’’غیر ملکی‘‘ ثابت ہونے لگے۔ اسی “فُرتیلے آپریشن“ نے شانگلہ سے علاج کی غرض سے لاہور آنے والے ذہنی معذور 17 سالہ خلیل اللہ کی زندگی کو ایسا گھمایا کہ وہ اپنے ہی ملک میں دیارِ غیر کا سفر کرکے واپس پولیس کے سپرد ہو گیا۔
خلیل اللہ، جسے والدین ایبٹ آباد اور پھر لاہور میں ذہنی علاج کے لیے لائے تھے، گزشتہ روز گھر سے باہر نکلا تو پولیس نے شیراکوٹ سے بغیر تصدیق، بغیر پوچھ گچھ اور بغیر کسی قانونی جانچ کے اسے ’’غیر ملکی‘‘ قرار دے کر سیدھا سبزی منڈی پناہ گاہ مرکز اور پھر وہاں سے طورخم بارڈر روانہ کر دیا۔ گویا شناختی کارڈ کی نہیں، چہرے کے ’’فیچرز‘‘ کی بنیاد پر شہریت طے ہونے لگی ہو۔
ورثا نے جب خلیل اللہ کے تمام پاکستانی دستاویزی ثبوت متعلقہ اداروں کو بھجوائے تو معاملہ مزید دلچسپ ہوگیا۔
خلیل اللہ کے دادا، چچا اور گاؤں کے چند لوگ ثبوت لے کر طورخم بارڈر پہنچے، نوجوان سے ملاقات بھی کی، مگر بارڈر پر متعلقہ افسران و عملے نے ثبوت دیکھنے کے باوجود اسے حوالے کرنے سے صاف انکار کر دیا… جیسے پاکستانی ثابت کرنا کوئی قومی جرم ہو۔
ادھر باقی غیر ملکیوں کی افغانستان روانگی کے دوران خلیل اللہ کو فہرست سے نکال کر دوبارہ پاکستان بھیج دیا گیا، مگر گھر نہیں بلکہ لاہور سبزی منڈی پناہ گاہ اب وہاں اس کے ’’ریکارڈ کی پڑتال‘‘ جاری ہے گویا سارے کاغذات، خاندان، گاؤں کے لوگ، بارڈر پر ملاقات اور والدین کی فریاد ایک طرف، اور پولیس کا فیصلہ دوسری طرف۔ یہ پورا واقعہ اس نظام پر جہاں پاکستانی شہری کو ثابت کرنے میں ہفتے لگ جاتے ہیں… اور غلطی سے ’’غیر ملکی‘‘ ثابت کرنے میں صرف پانچ منٹ کافی ہوتے ہیں۔












