سرینگر:کشمیر میں جمعے کی شب نوگام پولیس سٹیشن میں ضبط شدہ بارودی مواد اچانک پھٹنے سے کم از کم نو افراد جان سے گئے اور 27 زخمی ہو گئے، جن میں اکثریت پولیس اہلکاروں اور فرانزک ٹیم کے ارکان کی ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی نے مقامی نشریاتی ادارے این ڈی ٹی وی کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا کہ زخمیوں میں سے کم از کم پانچ کی حالت تشویش ناک ہے، جس کے باعث اموات میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
حکام کے مطابق دھماکہ رات تقریباً 11 بج کر 20 منٹ پر اس وقت ہوا جب فرانزک سائنس لیبارٹری کی ٹیم، مقامی نائب تحصیلدار اور تفتیش کار مواد کا تکنیکی معائنہ کر رہے تھے۔ ابتدائی تحقیقات میں سامنے آیا کہ مواد انتہائی حساس نوعیت کا تھا اور معمولی رگڑ، دباؤ یا درجہ حرارت میں تبدیلی بھی تباہ کن ردِعمل پیدا کر سکتی تھی۔
دھماکے کے بعد نوگام پولیس سٹیشن کی عمارت کے ایک حصے میں آگ بھڑک اٹھی جسے بجھانے کے لیے فائر بریگیڈ کو طلب کرنا پڑا۔
پولیس سربراہ کا کہنا ہے کہ سرینگر کے علاقے نوگام کے پولیس سٹیشن کے اندر ہونے والے دھماکے میں نو افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
سرینگر میں پولیس کے سربراہ نلین پربھات نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ اس دھماکے میں ہلاکتوں کے علاوہ 27 پولیس اہلکاروں سمیت 32 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ’ایف ایس ایل کی فارنزک کی ٹیم بہت احتیاط سے نمونے لے رہی تھی کہ 11 بج کر 20 منٹ پر یہ بدقسمت سانحہ ہوا۔‘پولیس چیف نے واضح کیا کہ اس سانحے پر کسی اور قسم کی قیاس آرائیاں کرنا بے سود ہے۔
انھوں نے بتایا کہ مرنے والے نو افراد میں فارنزک ٹیم کے تین افراد، دو ریونیو افسران اور دیگر ملازمین شامل ہیں۔ اس کے علاوہ 27 پولیس اہلکار، دو ریونیو افسران اور تین شہری زخمی ہوئے ہیں۔
تمام زخمیوں کو قریبی ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں ان کا علاج جاری ہے۔انھوں نے بتایا کہ دھماکے سے پولیس سٹیشن کی عمارت کو کافی نقصان پہنچا اور آس پاس کی عمارتیں بھی متاثر ہوئی ہیں۔
دھماکہ اس دھماکہ خیز مواد کے اچانک پھٹنے سے ہوا جو حال ہی میں دہلی لال قلعہ دھماکہ کیس سے منسلک بین ریاستی دہشت گرد ماڈیول فرید آباد ہریانہ سے ضبط کیا گیا تھا اور فرانزک جانچ کے لیے نوگام پولیس اسٹیشن میں محفوظ رکھا گیا تھااور اس میں امونیم نائٹریٹ کی بڑی مقدار شامل تھی۔

