واشنگٹن،امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ان کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ پینوراما کی دستاویزی فلم میں اپنی تقریر کی ایڈینٹگ کے معاملے پر بی بی سی کے خلاف قانونی کارروائی کریں۔
فاکس نیوز سے بات کرتے ہوئے ٹرمپ کا کہنا تھا کہ جس طریقے سے ان کی چھ جنوری کی تقریر کو پیش کیا گیا اس سے ناظرین کو دھوکہ ہوا۔
امریکی صدر کی جانب سے پینوراما کی دستاویزی فلم کی ایڈینٹگ کے معاملے پر بی بی سی کے خلاف قانونی کارروائی کی دھمکی کے بعد یہ پہلی مرتبہ ہے کہ انھوں نے اس بارے میں عوامی سطح پر بات کی ہے۔
صدر ٹرمپ کی قانونی ٹیم نے بی بی سی کو ڈاکیومنٹری سے ’مکمل اور شفاف لاتعلقی کے اظہار‘ کے لیے 14 نومبر تک کی مہلت دیتے ہوئے کہا تھا کہ بصورت دیگر بی بی سی کے خلاف ایک ارب ڈالر مالیت ہرجانے کے لیے قانونی کارروائی شروع کی جائے گی۔
بی بی سی کے چیئر سمیر شاہ نے ڈاکیومنٹری پرغلطی تسلیم کرتے ہوئے کہا ہے کہ بی بی سی اس غلطی پر معذرت خواہ ہے۔
فاکس نیوز کے پروگرام ’دی انگراہم اینگل‘ کے دوران جب صدر ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ کیا وہ مقدمہ کریں گے تو ان کا جواب تھا، ’مجھے لگتا ہے کہ مجھے کرنا پڑے گا، آپ جانتے ہیں، کیوں نہیں، انھوں نے عوام کو دھوکہ دیا، اور انھوں نے اس کا اعتراف کیا ہے۔‘
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ دراصل انھوں میری چھ جنوری کی تقریر ’جو کہ بہت خوبصورت، بہت پرسکون تقریر تھی‘ کو بدل کر اسے انتہا پسند بیانیہ بنا دیا۔
جب ان سے دوبارہ پوچھا گیا کہ کیا وہ قانونی چارہ جوئی کریں گے تو صدر ٹرمپ کا کہنا تھا ان کے خیال میں ان کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ایسا کریں کیونکہ ’آپ لوگوں کو ایسا کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔‘

