تحریر : سہیل احمد رانا
جہاں لفظ بےنقاب ہوں… وہیں سے سچ کا آغاز ہوتا ہے
چل میاں ٹیکس نہ دے، چالان تے دے
ہمارا عام پاکستانی بڑا معصوم ہے۔ کہتا ہے، میں حکومت کو ٹیکس کیوں دوں؟
میں تو غریب ہوں!
اور اسی غریب کا 26 ہارس پاور والا موٹر سائیکل دن میں تین بار 110 کی سپیڈ پر فلائی اوور پر اُڑ رہا ہوتا ہے… خیر… اب حکومت بھی سمجھدار ہو گئی ہے۔
اب وہ عوام کے دروازے پہ ٹیکس نہیں مانگے گی،
بلکہ سگنل پر کھڑے ہو کر ٹیکس کی بجائے چالان وصول کرے گی۔
کیونکہ سوچا گیا ہے کہ
جب عوام بجلی کا بل نہیں دیتی، گیس کی چوری کرتی ہے،انکم ٹیکس دیتے ہی نہیں، تو پھر ترقیاتی فنڈ کہاں سے آئے؟ اور بات تو ٹھیک ہے بھائی ،ملک بھی تو چلانا ہے نا… تو حکمرانوں نے فیصلہ کیا ہے کہ ٹیکس عوام نہیں دے گی، اب حکومت چالان کے ذریعے عوام سے خود وصول کرے گی۔
اب بھائی جان یاد رکھنا:
اب اوور سپیڈ پر صرف موٹر سائیکل کا تو دماغ نہیں گرم ہوگا،
بلکہ موٹر سائیکل کے ساتھ 2 ہزار روپے بھی اُڑ جائیں گے۔ اور اگر گاڑی 2000 سی سی ہے؟ پھر تو 20 ہزار روپے کا چالان ، یعنی گاڑی کے برابر کا جرمانہ، اب زرہ سوچیں ہمارا وہ نوجوان جو 17 سال کی عمر میں چاچو کی موٹر سائیکل چوری چھپے نکالتا ہے
وہ اب صرف ٹینشن میں نہیں ہوگا، اس پر FIR کا سایہ بھی منڈلائے گا،، اور ہاں،،
جس نے گاڑی کو اپنی مرضی کا نچا رکھا ہے
سائلنسر کھلا،
بیک لائٹ نیلی،
اور رفتار “تیرہ کی چاند رات” جیسی…
بس اب وہ ڈیزائن چک کروا لیں۔ اب صرف گاڑی نہیں چلے گی، پیسے بھی جائیں گے۔
ڈیجیٹل چالان بھی آرہا ہے!
یعنی اب ہتھے چڑھو گے تو
“بھول جاؤ میں تو نکل گیا تھا” والا ڈائیلاگ ختم۔
اور پوائنٹ سسٹم بھی…
20 پوائنٹ کٹے اور 6 مہینے تک لائسنس سسپینڈ۔
کیا اس ملک کے لوگ اب بھی یہی کہتے رہیں گے حکومت کچھ نہیں کرتی بھائی حکومت کو تو سارا حل نظر آگیا ہے۔ ٹیکس نہ دو… اوور سپیڈ کرو… اور دو ٹائم کی روٹی کے بجائے 20 ہزار کا چالان بھرو ۔۔ پاکستانی عوام رو بھی پڑے گی اور ہنس بھی پڑے گی
کیونکہ ہم سب جانتے ہیں…
یہ قانون جس قوم پر لگا ہے وہی قوم ہے جو گاڑی میں فرنٹ سیٹ پر سیٹ بیلٹ اس وقت تک نہیں باندھتی
جب تک سامنے پولیس والا نظر نہ آجائے!


