واشنگٹن: بحرین، مراکش، سوڈان اور متحدہ عرب امارات کے راستے پر چلتے ہوئے قازقستان بھی اسرائیل کے ساتھ معاہدہ ابراہیمی کرنے جا رہا ہے۔ قازقستان اور اسرائیل کے بیچ ایک دستخطی تقریب جلد ہی اسے باضابطہ بنا دے گی۔
معاہدہ ابراہیمی اسرائیل اور عرب اور مسلم اکثریتی ممالک کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے اور مستحکم کرنے کا معاہدہ ہے۔ اس معاہدے کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے پہلے صدارتی دور میں متعارف کرایا تھا۔
اس اقدام کی تصدیق سب سے پہلے عالمی خبر رساں ایجنسی اے پی کو تین امریکی اہلکاروں نے کی۔ اس کے بعد، ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا سائٹ پر اس کی جانکاری دی۔ ٹرمپ نے اسرائیل کے وزیر اعظم بنجمن نتن یاہو اور قازقستان کے صدر قاسم جومارٹ توکایف کے درمیان ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ قازقستان میری دوسری مدت میں معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہونے پہلا ملک بن گیا ہے۔
ٹرمپ نے لکھا، "استحکام اور ترقی کے لیے ممالک کو متحد کرنے کے لیے بہت کچھ کرنا ہے – حقیقی ترقی، حقیقی نتائج،” مبارک ہیں امن کا حصہ بننے والے!
واضح رہے قازقستان پہلے ہی اسرائیل کو ریاست کے طور پر تسلیم کر چکا ہے۔ جمعرات کو اعلان کیا گیا یہ عمل بڑی حد تک علامتی ہے کیونکہ قازقستان کے اسرائیل کے ساتھ 1992 سے سفارتی تعلقات ہیں اور جغرافیائی طور پر بحرین، مراکش، سوڈان اور متحدہ عرب امارات اسرائیل سے کافی دور ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ اعلان قازقستان سمیت پانچ وسطی ایشیائی ممالک کے رہنماؤں کے ساتھ جمعرات کی شام منعقدہ ایک سربراہی اجلاس کے آغاز سے کچھ دیر پہلے کیا۔
ایک اہلکار نے کہا کہ، غزہ کے لیے ٹرمپ کے امن منصوبے نے مکمل طور پر تصویر بدل دی ہے اور بہت سے ممالک اس امن معاہدے کا حصہ بننا چاہتے ہیں۔اس اہلکار نے کہا کہ اسرائیل اور قازق تعاون میں اضافہ کے مخصوص شعبوں میں دفاع، سائبر سیکیورٹی، توانائی اور فوڈ ٹیکنالوجی شامل ہوں گے، حالانکہ یہ سب 1990 کی دہائی کے وسط سے ہونے والے سابقہ دوطرفہ معاہدوں کے تابع رہے ہیں۔
دوسری طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کے روز کہا کہ وہ توقع کرتے ہیں کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان دو سال سے جاری جنگ کے بعد "بہت جلد” غزہ میں امریکی مربوط بین الاقوامی استحکام فورس تعینات کر دی جائے گی۔
یہ کثیر القومی فورس، جس میں ممکنہ طور پر مصر، قطر، ترکی اور متحدہ عرب امارات کے فوجی شامل ہوں گے، غزہ کے لیے ٹرمپ کے جنگ کے بعد کے گورننس پلان کا حصہ ہے۔
مصر اور اردن کے تعاون سے یہ فورس غزہ کی پٹی میں جانچ کی گئی فلسطینی پولیس کی تربیت اور مدد کرے گی۔ اسے سرحدی علاقوں کو محفوظ بنانے اور حماس کو ہتھیاروں کی اسمگلنگ کو روکنے کا کام بھی سونپا جائے گا، جس نے 7 اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر حملہ کرکے تنازعہ کو جنم دیا تھا۔


