کراچی : (خصوصی رپورٹ)کراچی کے علاقے میمن گوٹھ میں ایسا لرزا دینے والا واقعہ سامنے آیا کہ جان کر دل دہل جائے… ایک نجی ہسپتال نے صرف بل کی ادائیگی کے عوض ایک نومولود بیچ دیا۔ یہ ہے اس ملک میں صحت کے نام پر کاروبار کی اصل اور بھیانک تصویر۔
ذرائع کے مطابق شمع نامی خاتون زچگی کے معائنے کے لیے ہسپتال پہنچی، جہاں ڈاکٹر نے آپریشن کی رقم مانگی۔ جب خاتون نے بتایا کہ پیسے نہیں ہیں… تو ڈاکٹر نے “راستہ” بتاتے ہوئے کہا کہ ایک خاتون بچہ لینے کے لیے تیار ہے، اور وہ آپریشن سمیت تمام اخراجات ادا کر دے گی، بدلے میں نومولود بچے کو اس کے حوالے کرنا ہوگا۔
آپریشن ہوا۔ بچہ پیدا ہوا۔ اور پھر — وہ بچہ ماں کی گود کے بجائے، ہسپتال کے “ڈیل” کے تحت اُس خاتون کے ہاتھ بیچ دیا گیا۔
والد سارنگ نے جب معاملے کی حقیقت جانی تو زمین اس کے پیروں تلے کھسک گئی۔ اس نے فوراً مقدمہ درج کروایا۔ تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ جس خاتون نے نومولود لیا، وہ اسے پنجاب میں مزید پیسوں پر آگے فروخت کرچکی ہے۔ پاکستان میں نجی ہسپتالوں نے صحت کے نام پر منافع خوری کی وہ حدود بھی پار کرلی ہیں جو تاریخ میں بدترین سمجھی جاتی رہی ہیں۔ ایک طرف غریب عوام علاج کے لیے ترستے ہیں، اور دوسری طرف ان ہسپتالوں کا اخلاق یہ ہے کہ زندہ چلتا پھرتا انسان بھی اب ان کے لیے “بل ادا کرنے کا ذریعہ” بن گیا ہے۔
اس کیس نے ثابت کر دیا:
غریب کی زندگی اور عزت کی قیمت یہاں پیسوں سے ناپی جاتی ہے
ماں کی ممتا، بچے کا حق سب ہسپتالوں کے اخراجات کے نیچے دفن کر دیئے گئے۔ کیا حکومت صرف مقدمہ درج کرنے پر اکتفا کرے گی؟ یا پھر ان لائسنس یافتہ سفاک کاروباری ہاؤسز سے صحت کے نام پر چلنے والی یہ انسانوں کی خرید و فروخت واقعی بند کروائے گی؟ یہ کیس صرف ایک خبر نہیں یہ ایک صداقت کی چیخ ہے۔ اور یہ چیخ پورے ملک کے ان نجی ہسپتالوں تک پہنچنی چاہیے جو علاج کے نام پر بازار لگائے بیٹھے ہیں۔

