صوابی (حق نواز خان)
صوبہ خیبرپختونخوا میں خواتین کی جان لیوا بیماری سرویکل کینسر کے خلاف ایک بڑی عوامی آگاہی مہم کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں صوابی کے تاج محل ہوٹل میں تحصیل ٹوپی کے علماء کرام کا ایک اہم آگاہی سیشن منعقد ہوا، جس میں ڈسٹرکٹ خطیب مفتی مراد، تحصیل خطیب مولانا محمد مصدق، ڈاکٹر انیس احمد اور ڈاکٹر اشتیاق احمد نے خصوصی شرکت کی۔سیشن کے دوران طبی ماہرین اور علمائے کرام نے اس بات پر زور دیا کہ خواتین میں پائے جانے والے خطرناک کینسرز میں سرویکل کینسر سرِ فہرست ہے، جس سے بچاؤ کے لیے خیبرپختونخوا بھر میں 11 نومبر سے 24 نومبر 2026 تک ایچ پی وی (HPV) ویکسینیشن مہم چلائی جائے گی۔ مہم کے دوران صوبے بھر میں 9 سے 14 سال کی تقریباً 29 لاکھ بچیوں کو مفت حفاظتی ویکسین لگانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔عالمی ادارۂ صحت (WHO) کے ذیلی ادارے انٹرنیشنل ایجنسی فار ریسرچ آن کینسر (IARC) کے گلوبوکن 2023 کے تخمینوں کے مطابق:پاکستان میں سالانہ تقریباً 4,762 نئے کیسز سامنے آتے ہیں۔اس موذی مرض کے باعث سالانہ تقریباً 3,069 خواتین زندگی کی بازی ہار جاتی ہیں۔اعدادوشمار کے لحاظ سے پاکستان میں روزانہ اوسطاً 13 خواتین اس مرض کا شکار ہوتی ہیں جبکہ 8 سے 9 خواتین اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہیں۔طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ بیماری خواتین کے رحم کے نچلے حصے (سروکس) میں پیدا ہوتی ہے، جس کی بنیادی وجہ "ہیومن پیپیلوما وائرس” (HPV) کی خطرناک اقسام کا طویل عرصے تک جسم میں موجود رہنا ہے۔ ابتدائی مرحلے میں اس کی کوئی واضح علامات ظاہر نہیں ہوتیں، تاہم بیماری بڑھنے پر ماہواری کے علاوہ خون آنا، کمر اور پیڑو میں مسلسل درد، اور وزن میں غیر معمولی کمی جیسی علامات ظاہر ہو سکتی ہیں۔ بروقت تشخیص اور علاج سے اس پر مکمل قابو پایا جا سکتا ہے۔سیشن کے اختتام پر صحت کے ماہرین اور علمائے کرام نے والدین، اساتذہ اور میڈیا سے اپیل کی کہ وہ اس قومی صحت مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں، غیر مصدقہ افواہوں سے گریز کریں اور اہل بچیوں کو بروقت ویکسین لگوا کر انہیں اس مہلک مرض سے محفوظ بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔


