پیرس: ( نیوز ڈیسک)
فرانس میں بڑھتی ہوئی مہنگائی، روزمرہ اخراجات کے بڑھتے بوجھ اور متنازع تعلیمی اصلاحات کے خلاف صورتحال انتہائی کشیدہ ہو گئی ہے۔ ملک بھر میں مختلف ٹریڈ یونینز، ریل اور ایئر ٹریفک اسٹاف کے علاوہ ہسپتالوں کے کارکنان نے بھی ایک زبردست ملک گیر ہڑتال اور احتجاجی مارچ کی کال دے رکھی ہے، جس سے نظامِ زندگی اور ٹریفک کا نظام شدید متاثر ہوا ہے۔
ذرائع کے مطابق مہنگائی کے ستائے شہریوں اور ملازمین کی جانب سے حکومت پر شدید دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ روزمرہ کے اخراجات میں کمی اور تنخواہوں میں اضافے کے لیے عملی اقدامات کرے۔ دوسری جانب ٹرانسپورٹ کے شعبے بالخصوص ریل اور ایئر ٹریفک کی ہڑتال کے باعث ملکی اور بین الاقوامی سفر کرنے والے مسافروں کو بھی شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ ہسپتالوں میں بھی ہڑتال کے باعث طبی سرگرمیاں جزوی طور پر معطل ہیں۔
دوسری جانب تعلیمی محاذ پر بھی صورتحال کشیدہ ہے۔ طلبہ کی جانب سے تعلیمی نظام کے دیرینہ مسائل، خستہ حال سکولوں کی عمارتوں، کلاسوں میں طلبا کی زیادہ تعداد (اوور کراؤڈنگ) اور جامعات کو درپیش مالی و انتظامی مسائل کے خلاف شدید احتجاج جاری ہے۔ ملک بھر میں درجنوں ہائی سکولوں اور جامعات میں تالہ بندی کی اطلاعات ہیں، جس کے باعث تعلیمی سرگرمیاں مکمل طور پر معطل ہو کر رہ گئی ہیں۔
مظاہرین اور طلبا کا عزم ہے کہ جب تک ان کے مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے، احتجاج کا یہ سلسلہ مختلف شکلوں میں جاری رہے گا۔

