لاہور / اسلام آباد:پاکستان میں معاشرتی اور خاندانی ڈھانچہ شدید دباؤ کا شکار ہو رہا ہے۔ صوبہ پنجاب، سندھ اور وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی فیملی عدالتوں اور یونین کونسلز سے جاری ہونے والے حالیہ اعداد و شمار نے ملک میں طلاق اور خلع کے بڑھتے ہوئے رجحان کی ایک ہولناک تصویر پیش کی ہے۔
صوبائی دارالحکومت لاہور میں خاندانی تنازعات کی صورتحال انتہائی تشویشناک حد تک پہنچ چکی ہے۔لاہور کی فیملی عدالتوں نے صرف ایک ماہ کے دوران 500 گھرانوں کی تفریق کے احکامات جاری کیے، جن میں سے 300 ڈگریاں خلع اور 200 طلاق کے دعووں پر مبنی تھیں۔
رواں سال کے ابتدائی 9 مہینوں میں لاہور کی فیملی کورٹس میں 5 ہزار سے زائد خلع کی درخواستیں دائر کی گئیں۔
پنجاب لوکل گورنمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے مطابق لاہور کی یونین کونسلز نے 2021 میں 11 ہزار، 2022 میں 13 ہزار، 2023 میں 14 ہزار، اور 2024 میں 16 ہزار سے زائد خلع سرٹیفیکیٹس جاری کیے، جبکہ مئی 2025 تک مزید 3 ہزار 800 سرٹیفیکیٹس جاری کیے جا چکے ہیں۔
گزشتہ 5 سالوں کے دوران پنجاب میں طلاق کے مقدمات کی تعداد 3 لاکھ 47 ہزار اور خلع کے مقدمات کی تعداد 1 لاکھ 14 ہزار ریکارڈ کی گئی، جس سے کیسز میں مجموعی طور پر 35 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔
وفاقی دارالحکومت میں حالات مزید گھمبیر روپ دھار چکے ہیں۔اسلام آباد کی فیملی کورٹس میں روزانہ 300 سے زائد مقدمات دائر کیے جا رہے ہیں۔
عدالتوں میں خلع اور نان نفقہ کے اوسطاً 38 کیسز فی گھنٹہ درج ہو رہے ہیں۔رواں سال خلع کے دائر کیسز کی تعداد 45 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے، جہاں ہر ماہ اوسطاً 9 ہزار نئے مقدمات درج ہو رہے ہیں۔
کراچی سمیت سندھ بھر کی عدالتوں میں 2024ء کے دوران خواتین کی جانب سے خلع کے 20 ہزار 828 مقدمات درج کروائے گئے۔ فیملی عدالتوں نے تیزی سے کارروائی کرتے ہوئے 17 ہزار 469 مقدمات میں خلع کی ڈگریاں منظور کر کے فیصلے سنائے۔
سماجی ماہرین اور قانونی محققین کا کہنا ہے کہ معاشی عدم استحکام، گھریلو تشدد، عدم برداشت، اور سوشل میڈیا کے اثرات اس معاشرتی بحران کی بڑی وجوہات ہیں۔ فیملی کورٹس پر کیسز کا بڑھتا ہوا بوجھ اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ حکومتی اور سماجی سطح پر پری میرج کونسلنگ (ازدواجی مشاورت) اور مصالحتی کمیٹیوں کو فعال کیا جائے۔
خاندانی نظام بحران کا شکار: پنجاب میں طلاق و خلع کے کیسز میں ریکارڈ اضافہ، اسلام آباد میں روزانہ 300 درخواستیں دائر!

