تحریر: راجہ نورالٰہی عاطف
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے
ضلع خوشاب کی سرزمین اپنی مردم خیزی، علمی و ادبی روایات، باصلاحیت شخصیات اور قابلِ فخر خاندانوں کے حوالے سے ایک منفرد شناخت رکھتی ہے۔ اس دھرتی کے چھوٹے چھوٹے دیہات نے زندگی کے مختلف شعبوں میں ایسے نامور افراد پیدا کیے ہیں جنہوں نے نہ صرف اپنے علاقے بلکہ پاکستان کا نام بھی قومی اور بین الاقوامی سطح پر روشن کیا ہے۔ انہی قابلِ فخر بستیوں میں پیلو وینس بھی شامل ہے، جس کی علمی و سماجی پہچان میں جسرا خاندان کا نام خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔ اس خاندان سے وابستہ 27 ڈاکٹرز کی موجودگی بلاشبہ ایک غیرمعمولی تعلیمی و پیشہ ورانہ کامیابی ہے، جو پورے علاقے کے لیے باعثِ فخر اور نئی نسل کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ راقم الحروف (راجہ نورالہی عاطف ) کے نزدیک کسی بھی خاندان کی اصل عظمت اس کی دولت، جائیداد یا معاشرتی حیثیت سے نہیں بلکہ اس کی علمی سوچ، تعلیمی شعور، اخلاقی اقدار اور انسانیت کے لیے خدمات سے پہچانی جاتی ہے۔ جسرا خاندان نے طب جیسے مقدس اور حساس شعبے میں اپنی نمایاں موجودگی کے ذریعے یہ ثابت کیا ہے کہ تعلیم کا سفر اگر عزم، محنت، مستقل مزاجی اور خاندانی سرپرستی کے ساتھ جاری رکھا جائے تو کامیابی کی نئی تاریخ رقم کی جا سکتی ہے۔
قابلِ ذکر امر یہ ہے کہ جسرا خاندان سے تعلق رکھنے والے 27 ڈاکٹرز پاکستان سمیت برطانیہ، آسٹریلیا، سعودی عرب اور دنیا کے دیگر ممالک میں اپنی پیشہ ورانہ خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ان میں خاندان کے افراد کے ساتھ ان کے شریکِ حیات بھی شامل ہیں۔ اس طرح یہ خاندان طب کے مختلف شعبوں میں اپنی صلاحیتوں اور مہارتوں کا لوہا منوا رہا ہے۔ سینئر کنسلٹنٹس سے لے کر نوجوان ڈاکٹروں تک اس خاندان کی نمائندگی ایک وسیع طبی و علمی سلسلے کی عکاسی کرتی ہے۔
اس خاندان کے ڈاکٹرز نے طب کے مختلف اہم شعبوں میں اپنی خدمات کا دائرہ وسیع کر رکھا ہے۔ ان میں بے ہوشی، سرطان کے علاج، امراضِ نسواں و زچگی، امراضِ اطفال، نوزائیدہ بچوں کی نگہداشت، پیتھالوجی، ذیابیطس و ہارمونز، امراضِ جلد، ہڈیوں اور جوڑوں کی جراحی، امراضِ چشم، ہنگامی طب، جنرل پریکٹس اور بنیادی طبی نگہداشت جیسے شعبے شامل ہیں۔ یہ تنوع اس بات کا مظہر ہے کہ جسرا خاندان کے افراد نے محض ایک شعبے تک محدود رہنے کے بجائے جدید طب کے مختلف میدانوں میں اپنی قابلیت، مہارت اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو منوایا ہے۔
یہ امر بھی خصوصی اہمیت کا حامل ہے کہ ان ڈاکٹروں کی خدمات صرف بڑے شہروں، معروف ہسپتالوں یا بیرونِ ملک طبی اداروں تک محدود نہیں بلکہ ان کی پیشہ ورانہ وابستگی اور علمی رہنمائی اپنے آبائی علاقے کے لوگوں کے لیے بھی ایک قیمتی اثاثہ ہے۔ اپنے علاقے سے تعلق، خاندانی وابستگی اور آبائی دھرتی سے محبت کا جذبہ انہیں اپنے لوگوں کے قریب رکھتا ہے۔ براہِ راست یا بالواسطہ طبی مشوروں، رہنمائی اور معاونت کے ذریعے یہ افراد اپنے علاقے کے لیے امید اور سہارا بنے ہوئے ہیں۔
جسرا خاندان کی علمی روایت کا ایک خوب صورت پہلو یہ بھی ہے کہ اس کی تعلیمی سرگرمیاں صرف طب تک محدود نہیں رہیں بلکہ رینج لینڈ مینجمنٹ اور قدرتی وسائل کے شعبے میں اعلیٰ تعلیم و تحقیق بھی اس خاندان کی علمی وسعت اور فکری تنوع کی عکاس ہے۔ یہ حقیقت اس تصور کو مزید تقویت دیتی ہے کہ تعلیم انسان کو صرف روزگار ہی فراہم نہیں کرتی بلکہ اسے معاشرے کی بہتری، قدرتی وسائل کے تحفظ اور انسانی ترقی میں مؤثر کردار ادا کرنے کے قابل بھی بناتی ہے۔
بلاشبہ ایک ہی خاندان سے 27 ڈاکٹروں کا تعلق کوئی معمولی اعزاز نہیں۔ اس کے پیچھے برسوں کی محنت، والدین کی تربیت، اساتذہ کی رہنمائی، تعلیمی جدوجہد، خاندانی تعاون اور حصولِ علم کے لیے مسلسل لگن کارفرما ہوتی ہے۔ میڈیکل کی تعلیم آسان نہیں؛ اس کے لیے طویل عرصے تک شب و روز محنت، قربانی، صبر اور بے شمار مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایسے میں ایک خاندان کے اتنے افراد کا اس مشکل اور باوقار شعبے میں نمایاں مقام حاصل کرنا یقیناً قابلِ تحسین ہے۔
آج جب ہمارے معاشرے کو معیاری تعلیم، جدید طبی سہولیات اور مستند طبی ماہرین کی اشد ضرورت ہے، ایسے خاندانوں کی کامیابیاں امید کی نئی کرن بن کر سامنے آتی ہیں۔ جسرا خاندان کی یہ مثال اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ اگر دیہی علاقوں میں تعلیمی ماحول کو فروغ دیا جائے، بچوں کی حوصلہ افزائی کی جائے اور انہیں آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کیے جائیں تو یہی بچے مستقبل میں ملک و قوم کا سرمایہ بن سکتے ہیں۔
پیلو وینس کی نوجوان نسل کے لیے جسرا خاندان کا تعلیمی سفر ایک عملی پیغام رکھتا ہے کہ کامیابی کے لیے بڑے شہروں میں پیدا ہونا ضروری نہیں، بلکہ بڑے خواب، مضبوط عزم، مسلسل محنت اور تعلیم سے وابستگی انسان کو دنیا کے کسی بھی حصے میں اپنی پہچان بنانے کے قابل بنا سکتی ہے۔ گاؤں کی سادہ فضا میں پروان چڑھنے والے نوجوان بھی اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے بین الاقوامی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا اظہار کر سکتے ہیں۔
ضرورت اس امر کی بھی ہے کہ ہمارے دیہی معاشرے میں ایسی علمی و تعلیمی شخصیات کی خدمات کو اجاگر کیا جائے، ان کے تجربات سے نئی نسل کو مستفید ہونے کے مواقع فراہم کیے جائیں اور تعلیمی میدان میں نمایاں کارکردگی دکھانے والے نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ اس سے نہ صرف تعلیمی رجحان کو فروغ ملے گا بلکہ علاقے میں مثبت سوچ، صحت مند مقابلے اور ترقی کے نئے راستے بھی کھلیں گے۔
حقیقت یہ ہے کہ پیلو وینس کی پہچان صرف اس کے جغرافیائی وجود یا تاریخی حوالوں تک محدود نہیں، بلکہ اس کی مٹی نے علم، انصاف اور خدمتِ انسانیت کے میدان میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے والی شخصیات بھی پیدا کی ہیں۔ ایک طرف قانون و انصاف کے علم بردار اس دھرتی کا فخر ہیں تو دوسری طرف مریضوں کے دکھوں کا مداوا کرنے والے ڈاکٹرز انسانیت کی خدمت میں مصروف ہیں۔
جسرا خاندان کے 27 ڈاکٹرز کی یہ کامیابی دراصل پیلو وینس کے علمی وقار، والدین کی تربیت، تعلیم سے محبت اور خدمتِ انسانیت کے جذبے کی ایک روشن داستان ہے۔ یہ داستان آنے والی نسلوں کو یہ سبق دیتی رہے گی کہ علم وہ دولت ہے جو جتنی تقسیم کی جائے، اتنی ہی بڑھتی ہے، اور انسانیت کی خدمت وہ اعزاز ہے جو وقت گزرنے کے ساتھ مزید تابندہ ہوتا جاتا ہے۔
بلاشبہ پیلو وینس کی مٹی زرخیز ہے، اس کے سپوت باصلاحیت ہیں اور جسرا خاندان کی یہ علمی و طبی کامیابی اس سرزمین کے ماتھے کا ایک اور روشن جھومر ہے۔ دعا ہے کہ یہ خاندان اسی طرح علم و تحقیق، طب اور خدمتِ انسانیت کے میدان میں کامیابیوں کے نئے باب رقم کرتا رہے اور اس کی روشن مثال سے مزید نوجوان اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے ملک و قوم کا نام روشن کریں۔


