ملتان (رپورٹ: ملک جابر عباس سے)
وزیراعلیٰ پنجاب کی سپیشل اسسٹنٹ برائے پولیو عظمیٰ کاردار نے قومی پولیو مہم کے دوسرے روز ملتان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے فیلڈ ٹیموں کی کارکردگی کا جائزہ لیا۔ بعد ازاں ڈپٹی کمشنر ملتان ڈاکٹر فیصل سلیم کے ہمراہ پریس بریفنگ دیتے ہوئے انہوں نے قومی پولیو مہم کی پیش رفت سے آگاہ کیا۔
عظمیٰ کاردار نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ پولیو کے مکمل خاتمے کیلئے تمام متعلقہ ادارے جامع اور مربوط حکمت عملی کے تحت دن رات کام کر رہے ہیں۔ قومی پولیو مہم کے پہلے دو روز میں ملتان کے اندر 6 لاکھ بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جا چکے ہیں جبکہ سب سے خوش آئند بات یہ ہے کہ اس دوران کسی بھی قسم کا کوئی ریفیوزل (والدین کی طرف سے انکار) سامنے نہیں آیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ پولیو کے اس موذی مرض کے مکمل خاتمے کیلئے علماء کرام کی گراں قدر خدمات بھی حاصل کی جا رہی ہیں، جبکہ فیلڈ میں کام کرنے والے پولیو ورکرز کو تمام ضروری سہولیات اور معاونت فراہم کی گئی ہے۔ مہم کے دوران جو بچے کسی وجہ سے رہ گئے ہیں، انہیں قطرے پلانے کیلئے خصوصی اقدامات کیے جا رہے ہیں اور ورکرز بچوں کو قطرے پلانے کے ساتھ ساتھ ان کا مکمل ریکارڈ بھی مرتب کر رہے ہیں۔
وزیراعلیٰ پنجاب کی سپیشل اسسٹنٹ کا کہنا تھا کہ صوبہ پنجاب نے پولیو کے خاتمے کیلئے مقرر کردہ اہداف کے حصول میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔ پاکستان کو 2027 تک پولیو فری بنانے کیلئے تمام دستیاب وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے بھرپور اور نتیجہ خیز کوششیں جاری ہیں۔
اس موقع پر ڈپٹی کمشنر ملتان ڈاکٹر فیصل سلیم نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ شہر میں پولیو وائرس کے مکمل خاتمے کیلئے ضضلعی انتظامیہ کی طرف سے مربوط حکمت عملی کے تحت اقدامات جاری ہیں۔ ملتان کے ماحولیاتی سیمپلز منفی آنے کے باوجود پولیو کے مکمل خاتمے تک یہ مہم پوری مستعدی سے جاری رکھی جائے گی۔
ڈپٹی کمشنر نے واضح کیا کہ پولیو جیسی حساس قومی مہم کے حوالے سے کسی بھی قسم کی غفلت یا کوتاہی کو قطعی برداشت نہیں کیا جائے گا اور تمام متعلقہ ادارے اپنی قومی ذمہ داری کے سمجھوتہ کیے بغیر فرائض انجام دیں گے۔

