سکھر (رپورٹ/ عبد الرحمان راجپوت):
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے باوجود پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں کمی نہ ہونے پر سکھر کے شہریوں اور غریب مسافروں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ عام عوام تک منتقل نہ ہونے کے باعث مسافروں کو بدستور مہنگے کرایوں کی ادائیگی کرنا پڑ رہی ہے، جبکہ ٹرانسپورٹرز کی جانب سے کرایوں میں کمی کے حوالے سے تاحال کوئی واضح پیش رفت سامنے نہیں آ سکی ہے۔شہریوں کا کہنا ہے کہ جب بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے تو ٹرانسپورٹرز فوری طور پر کرایوں میں اضافہ کر دیتے ہیں، لیکن جب حکومت کی جانب سے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کی جاتی ہے تو اس کے ثمرات عوام تک پہنچانے کے لیے کوئی عملی اقدام نظر نہیں آتا۔ اس دوہرے معیار کے باعث روزانہ سفر کرنے والے ملازمین، طلبہ، مزدوروں، دیہاڑی دار طبقے اور دیگر کم آمدنی والے افراد شدید مالی مشکلات کا شکار ہیں۔مسافروں کا کہنا ہے کہ مہنگائی کے موجودہ دور میں پہلے ہی گھریلو اخراجات پورے کرنا مشکل ہو چکا ہے، ایسے میں ٹرانسپورٹ کے زائد کرائے ان کے لیے مزید پریشانی کا سبب بن رہے ہیں۔ خصوصاً روزانہ ایک شہر سے دوسرے شہر یا شہر کے مختلف علاقوں میں سفر کرنے والے افراد کی آمدنی کا بڑا حصہ سفری اخراجات پر خرچ ہو رہا ہے۔شہریوں نے متعلقہ ٹرانسپورٹ اتھارٹی، ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی (RTA)، ضلعی انتظامیہ اور محکمہ ٹرانسپورٹ کے متعلقہ حکام کی خاموشی پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ عوام کو ریلیف فراہم کرنا متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے، مگر کرایوں پر مؤثر نگرانی نہ ہونے کے باعث مسافروں کو اپنی مرضی کے کرائے وصول کیے جانے کی شکایات کا سامنا ہے۔عوامی حلقوں نے اعلیٰ حکام، ڈپٹی کمشنر اور متعلقہ ٹرانسپورٹ حکام سے پُر زور مطالبہ کیا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے تناسب سے پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں فوری کمی کا اعلان کیا جائے، نئے کرایہ نامے جاری کرکے تمام گاڑیوں میں نمایاں جگہ پر آویزاں کروائے جائیں اور مقررہ کرایوں سے زائد وصولی کرنے والے ٹرانسپورٹرز کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

