مشی گن / واشنگٹن : سابق امریکی صدر براک اوباما نے موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کے خلاف عسکری پالیسی اور جاری جنگ کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے ایک ایسی غیر ضروری اور تباہ کن جنگ کا آغاز کیا جس کی نہ کسی نے درخواست کی تھی اور نہ ہی امریکی عوام نے اس کے لیے ووٹ دیا تھا۔ اوباما کے مطابق اس جنگ نے تہران کو پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط اسٹریٹجک پوزیشن میں پہنچا دیا ہے، امریکی فوجیوں کی جانیں لیں اور ملک میں مہنگائی کا طوفان برپا کر دیا ہے۔
مشی گن میں ایک انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے براک اوباما نے ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے فتح کے دعووں کو چیلنج کیا اور کہا کہ اس جنگ نے مشرقِ وسطیٰ میں امریکی اتحادیوں اور عسکری اڈوں کو شدید خطرات اور حملوں کی زد میں لا کھڑا کیا ہے، جبکہ ایران کو تنگہ ہرمز (Strait of Hormuz) سے گزرنے والی عالمی بحری تجارت پر پہلے سے زیادہ کنٹرول فراہم کر دیا ہے۔
سابق امریکی صدر اوباما نے ڈونلڈ ٹرمپ کی جنگی حکمتِ عملی کا اپنے دورِ حکومت کے 2015 کے ایٹمی معاہدے (JCPOA) سے موازنہ کرتے ہوئے کہا: ”میں نے بغیر کوئی میزائل داغے سفارت کاری سے ایران کو روکا“:
”موجودہ صدر نے غلط فیصلوں کا ایک سلسلہ شروع کیا۔ سب سے بڑا غلط فیصلہ ایک ایسی غیر ضروری جنگ چھیڑنا تھا جس کا کوئی طالب نہیں تھا۔ میرے دور میں ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں تھے اور ہم نے ایٹمی معاہدے کے ذریعے ان کے پروگرام کو کامیابی سے روکا تھا۔ میں نے ایک بھی میزائل داغے بغیر سفارت کاری کے ذریعے یہ مقصد حاصل کیا تھا۔“
جنگ کے مقاصد اور ٹرمپ انتظامیہ کے چھ ماہ قبل کیے گئے ‘فتح کے اعلان’ پر سوال اٹھاتے ہوئے براک اوباما نے پوچھا کہ جنگ شروع ہوئے سات ماہ گزرنے کے بعد آخر امریکہ نے کیا حاصل کیا؟
اوباما کا کہنا تھا کہ اس وقت ہمارے اتحادیوں اور ملٹری بیسز پر حملے ہو رہے ہیں اور عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کے اہم ترین راستے آبنائے ہرمز پر ایران کا اثر و رسوخ بے تحاشا بڑھ چکا ہے۔ اب حالت یہ ہے کہ ایران کوآبنائے ہرمز پر ایک طرح کا ‘ویٹو پاور’ حاصل ہو گیا ہے اور وہ جنگ سے پہلے کے مقابلے میں زیادہ مضبوط موقف میں ہے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ اس جنگ کے باعث عالمی مارکیٹ میں پٹرولیم، ڈیزل کی قیمتوں میں ہلاکت خیز اضافہ ہوا جس کے براہِ راست اثرات امریکی عوام پر مہنگائی اور زندگی کے اخراجات میں اضافے کی صورت میں پڑ رہے ہیں۔
اوباما کے اس جذباتی اور تند و تیز خطاب نے امریکی انتخابات سے قبل ٹرمپ انتظامیہ کی مشرقِ وسطیٰ پالیسی اور عسکری اقدامات پر بحث کو مزید شدت بخش دی ہے۔

