گلاسگو : اسکاٹ لینڈ کے شہر گلاسگو میں واقع نامور ’کیلُون گروو آرٹ گیلری اینڈ میوزیم‘ (Kelvingrove Art Gallery and Museum) کی انتظامیہ نے قدامت اور جدید اخلاقیات کی ایک ایسی انوکھی مثال قائم کی ہے جس نے دنیا بھر کے مورخین اور سیاحوں کو حیرت میں مبتلا کر دیا ہے۔
میوزیم انتظامیہ نے ہزاروں سال پرانی مصری ممیوں (Ancient Egyptian Mummies) کو عوامی نمائش سے ہٹا کر اسٹور روم منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے، اور اس کا جو جواز پیش کیا گیا ہے وہ انتہائی دلچسپ ہے۔میوزیم کی نئی مسودہ پالیسی کے تحت، کسی بھی انسان کی باقیات کو نمائش کے لیے پیش کرنے سے قبل مرنے والے فرد یا اس کے پس ماندگان اور ورثاء کی تصیح شدہ تحریری اجازت (Documented Consent) کا ہونا لازمی قرار دیا گیا ہے۔
اب سوال یہ اٹھ رہا ہے کہ ہزاروں سال قبل فرعونوں کے دور میں ممی بنائے گئے افراد یا ان کی نسلوں کا سراغ لگا کر ان سے دستخط شدہ اجازت نامہ آخر کیسے حاصل کیا جائے؟
برطانوی اخبار ’دی ٹائمز‘ کی رپورٹ کے مطابق، نمائش سے ہٹائی گئی نوادرات اور انسانی باقیات میں ایک مردانہ ممی کا سر،’نخت‘ (Nakht) نامی قدیم مصری کاہن کی باقیات پر مشتمل ایک مزین اور نقش و نگار والا تابوت (Sarcophagus)الاقصر (Luxor) کی وادیٔ شاہان (Valley of the Kings) سے برآمد شدہ ممی شدہ پاؤں، سر اور ہاتھ شامل ہیں ۔
میوزیم انتظامیہ نے ممیوں کی خالی جگہ پر آنے والے سیاحوں کی آگاہی کے لیے ایک معلوماتی بورڈ آویزاں کیا ہے، جس پر تحریر ہے: ”ہم نے احترام کے پیشِ نظر اس نمائش سے انسانی باقیات کو ہٹا دیا ہے۔“
میوزیم کا انتظام سنبھالنے والی تنظیم ’گلاسگو لائف‘ (Glasgow Life) نے اس اقدام کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فیصلہ جدید میوزیم کی روایت اور ‘انٹرنیشنل کونسل آف میوزیمز’ (ICOM) کے جاری کردہ اخلاقی ضوابط (Code of Ethics) کی جدید ترین اپ ڈیٹس کے عین مطابق ہے۔ تاہم، سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں میں اس فیصلے پر مزاحیہ اور سوالیہ انداز میں بحث جاری ہے کہ آیا ہزاروں سال پرانے کاہنوں سے "رضامندی فارم” پر دستخط کروانا ممکن بھی ہے یا نہیں۔
3,000 سال پرانی لاش کے وارثان کا اجازت نامہ کہاں سے لائیں؟ اسکاٹ لینڈ کے میوزیم نے مصری ممیوں کی نمائش روکدی

