واشنگٹن : ایران کے ساتھ ممکنہ اور شدید عسکری تصادم کے بڑھتے ہوئے خدشات کے پیشِ نظر امریکہ نے مشرقِ وسطیٰ سے اپنے ملٹری اور سفارتی عملے کا انخلاء شروع کر دیا ہے۔ امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس، نے رپورٹ کیا ہے کہ کی جانب سے جاری علاقائی خطرات اور ایران کی براہِ راست دھمکیوں کے پیشِ نظر امریکی فوج مشرقِ وسطیٰ میں اپنے بعض اڈوں پر فوجیوں کی موجودگی خاموشی سے کم کر رہی ہے۔
اطلاعات کے مطابق واشنگٹن نے اردن، قطر اور کویت میں قائم اپنے حساس اور اہم ترین عسکری اڈوں سے فوجی اہلکاروں کی واپسی کی کارروائی شروع کر دی ہے۔اس کے ساتھ ہی خطے بھر میں واقع امریکی سفارت خانوں اور قونصل خانوں میں غیر ضروری سفارتی عملے کی تعداد کم کی جا رہی ہے جبکہ امریکی اہلکاروں کے اہل خانہ کو بحفاظت نکالنے کے لیے ہنگامی اقدامات جاری ہیں۔
امریکی اقدامات اور حکمتِ عملی کے اہم پہلوسفارتی اور عسکری ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ کا یہ فیصلہ کسی بڑی علاقائی جنگ کی تیاری یا ممکنہ ایران حملے کے ردِعمل سے بچاؤ کی اہم کڑی ہے۔
حساس اور غیر محفوظ اڈوں سے اہلکاروں کو ہٹانے کا بنیادی مقصد کسی بھی متوقع ایرانی حملے کی صورت میں جانی نقصان کے خطرے کو کم سے کم کرنا ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے ترجمان کیپٹن ٹِم ہاکنز نے سی بی ایس سے کہا کہ امریکی فوج معمول کے مطابق اپنے اہلکاروں اور سازوسامان کی نقل و حرکت کرتی رہتی ہے تاکہ مختلف مشنز کے لیے آپریشنل تیاری کو بہتر بنایا جا سکے۔
انھوں نے کہا: ’آپریشنل سکیورٹی وجوہات کی بنا پر ہم ایسی نقل و حرکت کی تفصیلات فراہم نہیں کرتے۔ امریکی افواج خطے بھر میں امریکی اہلکاروں اور مفادات کے تحفظ کے لیے بدستور چوکس اور تیار ہیں
اہلکاروں کی واپسی سے امریکی ملٹری کمانڈرز کو بحران کی صورت حال میں ہنگامی حکمتِ عملی اور جوابی اقدامات کا فیصلہ کرنے کے لیے زیادہ لچک اور آزادی حاصل ہوگی۔
عسکری اور سفارتی عملے کو ایک ساتھ اور بیک وقت نکالنے سے یہ واضح اشارہ ملتا ہے کہ واشنگٹن مشرقِ وسطیٰ میں ایک وسیع تر اور جامع علاقائی جنگ کے امکانات کو مدنظر رکھتے ہوئے حتمی تیاری کر رہا ہے۔انٹیلی جنس رپورٹس اور امریکہ کے ان ہنگامی اقدامات نے پورے مشرقِ وسطیٰ میں شدید بے یقینی اور ہائی الرٹ کی فضا قائم کر دی ہے۔
چپکے چپکے امریکا نے خلیج سے اپنی فوج اور شہریوں کو نکالنا شروع کردیا

