پیرس : دنیا بھر میں صحت عامہ کے حوالے سے ایک انتہائی تشویشناک اور تہلکہ خیز خبر سامنے آئی ہے جہاں فرانس نے انسانوں میں شمنڈا وائرس (Shamonda Virus) کے دنیا کے پہلے معلوم کیس کی باضابطہ تصدیق کر دی ہے۔
بدقسمتی سے، اس وائرس سے متاثرہ شخص علاج کے دوران دنیا سے رخصت ہو گیا ہے۔ عالمی طبی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ یہ وائرس جانوروں سے انسان میں منتقل ہوا ہے، جبکہ اس سے قبل یہ مانا جاتا تھا کہ یہ وائرس صرف مویشیوں اور جانوروں کو ہی اپنا نشانہ بناتا ہے۔
شمنڈا وائرس (Shamonda Virus) کیا ہے؟
تاریخی پس منظر: اس وائرس کو سب سے پہلے 1960ء کی دہائی میں نائجیریا میں دریافت کیا گیا تھا۔
پھیلاؤ کا طریقہ: یہ وائرس بنیادی طور پر مچھروں کی طرح کے چھوٹے کاٹنے والے کیڑوں (Midges) کے ذریعے پھیلتا ہے۔
سال 2026ء کے دوران یہ وائرس یورپی ممالک میں مویشیوں اور مویشی خانوں میں مسلسل گردش کر رہا تھا، تاہم اب انسانوں میں اس کی منتقلی نے بین الاقوامی طبی ماہرین کی نیندیں اڑا دی ہیں۔
فرانسیسی طبی اور صحت عامہ کے حکام نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ فی الحال انسان سے انسان میں اس وائرس کے بڑے پیمانے پر پھیلنے کا کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا ہے اور نہ ہی عام آبادی کے لیے کسی فوری اور بالواسطہ خطرے کی نشان دہی ہوئی ہے۔
تاہم، جانوروں سے انسانوں میں وائرس کی اس غیر متوقع منتقلی (Cross-Species Jump) کے بعد عالمی ادارہ صحت اور یورپی صحت کے ادارے صورتحال پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ وبائی خطرے کی بروقت روک تھام کی جا سکے۔
کرونا کے بعد نیا وائرس؟ فرانس میں عالمی تاریخ کا پہلا شمنڈا وائرس کیس رپورٹ، مریض جان بحق!

