پشاور (بیورو ڈیسک)
خیبر پختونخوا میں مبینہ کرپشن کے انکشافات کا سلسلہ مسلسل جاری ہے۔ تازہ ترین لہر میں محکمہ ہاؤسنگ ایک بار پھر اربوں روپے کے بڑے سکینڈل کی زد میں آ گیا ہے، جہاں صوبائی وزیر ہاؤسنگ ڈاکٹر امجد علی کے خلاف قومی احتساب بیورو (نیب) نے آمدن سے زائد اثاثوں اور اختیارات کے ناجائز استعمال پر تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کر دیا ہے۔نیب کی جاری تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ نوشہرہ میں اربوں روپے کی لاگت سے بننے والا "میگا سٹی” منصوبہ مبینہ طور پر دریائے کابل کی اراضی پر تعمیر کیا جا رہا ہے۔ حیرت انگیز طور پر خیبرپختونخوا ہاؤسنگ اتھارٹی کے پاس اس منصوبے کا نہ تو کوئی باقاعدہ انتقال موجود ہے اور نہ ہی زمین کا قانونی قبضہ۔ نیب نے ڈائریکٹر جنرل اور پراجیکٹ ڈائریکٹر سے اس حوالے سے سخت بازپرس شروع کر رکھی ہے۔تحقیقاتی اداروں کے مطابق، صوبائی وزیر ڈاکٹر امجد علی پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنے عہدے کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے خاندانی افراد اور رشتہ داروں کو محکمہ ہاؤسنگ میں اہم اور غیر قانونی عہدوں پر تعینات کیا۔ نیب کی جانب سے (سابق) ڈائریکٹر عمران وزیر کے نام جاری کردہ خفیہ نوٹس میں درج ذیل اہم ریکارڈ طلب کیا گیا ہے:تحریری معاہدے: 15، 16 اور 22 فروری 2022ء کو لیڈ پرائیویٹ لمیٹڈ کے چیف ایگزیکٹو اور وزیر ہاؤسنگ کے مابین ہونے والے تمام معاہدوں کی مکمل تفصیل۔مشترکہ دورے کی دستاویزات: 24 فروری 2022ء کو دورہ کرنے والی کمیٹی کے ممبران کے شناختی کارڈ نمبرز، نوٹ شیٹس اور دیگر تحریری ریکارڈ۔جوائنٹ ونچر کا ریکارڈ: محکمہ ایریگیشن، ٹی ایم اے، محکمہ زراعت اور دیگر اداروں کے ساتھ جوائنٹ ونچر (جوائنٹ ونچر ریگولیشن 2021ء) کے تحت ہونے والی خط و کتابت اور سائٹ سروے کا اصل ریکارڈ۔نیب نے صوبائی وزیر سمیت ان کے قریبی خاندان کے 20 مردوں اور 11 خواتین کے ناموں پر موجود رہائشی، کمرشل اور صنعتی اراضی کی خرید و فروخت کا تمام ریکارڈ طلب کر لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ورسک 1 پر ہائی رائز فلیٹس میں صوبائی وزیر کی صاحبزادی (مسماۃ ث) کو تیسری منزل پر فلیٹ نمبر A04 الاٹ کیے جانے کا معاملہ بھی نیب کی زیرِ نظر ہے۔سکینڈل کے دائرے میں صرف سیاسی شخصیات ہی نہیں بلکہ بیوروکریسی بھی شامل ہے۔ خیبرپختونخوا ہاؤسنگ اتھارٹی کے سابق سیکرٹری اور سابق ڈائریکٹر جنرل پر الزام ہے کہ انہوں نے قواعد و ضوابط کی دھجیاں اڑاتے ہوئے اپنے لیے غیر قانونی طور پر رہائش گاہیں حاصل کیں۔ بعد ازاں بننے والی انکوائری کمیٹی نے ان اقدامات کو صریحاً غیر قانونی اور ضابطے کے خلاف قرار دیا تھا۔جب اس تمام صورتحال پر سابق ڈائریکٹر عمران وزیر سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے نیب کی جانب سے جاری تحقیقات کی تصدیق کی، تاہم اس مرحلے پر مزید کسی بھی قسم کی رائے دینے سے گریز کیا۔


