سیالکوٹ (۔سلیم احمد اعوان شیخوسے )
ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن سیالکوٹ کے سابق صدر شاہد میر کی قیادت میں ایک اہم وفد نے منگل کے روز ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ارشد جاوید سے ملاقات کی اور نئی عمارت کی تعمیر میں سنگین انتظامی و فنی خرابیوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ وفد میں ملک بشیر اعوان، لالہ مبشر بٹ، حافظ فیاض، حسیب بھٹی، عقیل بیگ، چودہری عمران، حافظہ اقراء رانی اور مس عالیہ اعظم شامل تھے۔ملاقات کے دوران رہنماؤں نے انکشاف کیا کہ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز کمپلیکس کی نئی عمارت کے نقشے اور تعمیراتی ڈیزائن میں سنگین غفلت برتی گئی ہے۔ ججز کے ریٹائرنگ رومز کو عمارت کے عقب میں رکھنے کے بجائے فرنٹ پر اور عدالتوں کو پیچھے رکھا گیا ہے، جس سے سیکورٹی رسک کئی گنا بڑھ گیا ہے۔شاہد میر نے سیشن جج کو بتایا کہ کمپلیکس کے انٹری پوائنٹ کے واپسی والے حصے کو دیوار بنا کر مکمل بند کر دیا گیا ہے، جبکہ بچ جانے والا داخلی راستہ بھی مری کی پہاڑیوں جیسا دشوار گزار بنا دیا گیا ہے جہاں سے بزرگ سائلین اور خواتین بار ممبران انتہائی کسمپرسی اور مشکل سے گزرتی ہیں۔ اس کے علاوہ پولیس کی جانب سے سائلین کی کوئی مینوئل چیکنگ کا نظام موجود ہے اور نہ ہی سیکیورٹی گیٹس نصب کیے گئے ہیں، جو کسی بھی وقت کسی بڑے حادثے کو دعوت دے سکتے ہیں۔وفد نے یاد دلایا کہ سیالکوٹ کی تاریخ گواہ ہے کہ ماضی میں سیکیورٹی کے ناقص انتظامات کی وجہ سے عدالتوں اور جیل کے اندر ہولناک قتل و غارت ہو چکی ہے، لہٰذا فیملی اور دیوانی عدالتوں کے ناقص صفائی انتظامات اور ان خونی خطرات پر فوری قابو پایا جائے۔ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نے وفد کے تمام مطالبات اور تجاویز کو انتہائی سنجیدگی سے سنا اور اس سنگین مسئلے کے فوری حل کے لیے عملی اقدامات اٹھانے کی یقین دہانی کروائی ہے۔


