پیرس:ویب ڈیسک
فرانس اس وقت شدید ترین اندرونی بحران کی لپیٹ میں آ چکا ہے۔ ملک میں آسمان چھوتی مہنگائی، طلبہ کے طویل احتجاج اور اس کے بعد پھوٹ پڑنے والے بے قابو، پرتشدد مظاہروں، لوٹ مار اور زبردست ہنگامہ آرائی نے پورے فرانس کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ صورتحال پر قابو پانے کے لیے حکومت نے انتہائی سخت اقدامات اٹھاتے ہوئے ملک کے حساس حصوں میں ہنگامی کرفیو نافذ کر دیا ہے۔مقامی حکام کے مطابق، خاص طور پر فرانس کے شمالی شہروں (خصوصاً لِیل اور اس کے گردونواح) میں 18 سال سے کم عمر بچوں اور نوجوانوں کی نقل و حرکت پر رات کے اوقات میں مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے تاکہ نوجوان نسل کو ان پرتشدد کارروائیوں اور خطرناک حالات سے محفوظ رکھا جا سکے۔پیرس کے مخصوص حصوں سمیت نیس اور دیگر بڑے شہروں میں رات کے اوقات (عموماً رات 8 بجے سے صبح 6 بجے تک) کے لیے جزوی کرفیو نافذ کیا گیا ہے۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ کرفیو فی الحال ملک گیر پیمانے پر نہیں بلکہ مقامی نوعیت کا ہے، تاہم حالات کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے اس کا دائرہ کار مزید بڑھایا جا سکتا ہے۔پرتشدد جھڑپوں اور سرکاری و نجی املاک کو کروڑوں کی مالیت کا نقصان پہنچانے کے پاداش میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اب تک دو ہزار سے زائد افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔ فرانسیسی وزیرِ اعظم نے ہنگامہ آرائی کرنے والوں کے خلاف آہنی ہاتھوں سے نمٹنے اور امن و امان کی بحالی کے لیے انتظامیہ کو مکمل چھوٹ دے دی ہے۔ ملک بھر میں پولیس اور سکیورٹی فورسز کے گشت میں اضافہ کر دیا گیا ہے جبکہ اہم تنصیبات کی سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔

